سلسلہ مداریہ میں بیعت وخلافت کا مسئلہ


سلسلئہ مداریہ میں بیعت و خلافت کا مسئلہ


سلسلہ بدیعیہ مداریہ میں بیعت.وخلافت  ہر قرن وہر صدی میں متواتر و مروج رھی ھے سیرت و سوانح اولیاء کی کتابوں میں شجرات مداریہ و خلفاء قطب المدار سرکار زندہ شاہ مدار قدس سرہ کے احوال خوب ملتے ھیں
سلسہ رضویہ کے بعض علماء کچھ سالوں سے یہ ھوا اڑانے لگے ھیں کہ سلسلہ مداریہ میں بیعت و خلافت جائز نھیں ھے بلکہ اس سلسلے کے اوراد و وظائف کی اجازت ہی رضویہ سلسلے کے بزرگوں کو ملی ھے
 ایسا ھی فاضل بریلوی کی طرف منسوب فاضل بریلوی کی.موجودہ  فتاوی رضویہ میں بھی کچھ لکھا گیا  ھے
علماء سلسلہ مداریہ کا ماننا ھے کہ چونکہ فاضل بریلوی کی موجودہ فتاوی رضویہ.فاضل بریلوی کے وصال کے بہت بعد  شدید اختلاف کے دنوں میں شائع ھوئی ھے ناقلین, کاتبین یا مرتبین.میں سے کسی نے اپنی طرف سے سلسلہ مداریہ کے خلاف کچھ باتیں لاحق کردی ھے اسی طرح فتاوی مصطفویہ میں بھی کتر بینوت کیا گیا ھے اور سلسلہ مداریہ سے متعلق مفتی اعظم کے فتوے میں تحریف کی گئی ھے
سلسلہ رضویہ کے بعض مبلغین و ناشرین نے یہ مزعومہ قائم کیا ھے کہ امام سلسلئہ رضویہ اعلیحضرت مولانا احمد رضا فاضل   بریلوی کو سلسلہ بدیعیہ مداریہ میں بیعت کرنے اور خلافت دینے کی اجازت نھیں تھی بلکہ اس سلسلہ کے صرف اذکار و اشغال کی اجازت تھی
یہی مزعومہ مفتی جلال الدین امجدی نے بھی قائم کیا ھے اورفتاوی فقیہ ملت جلد دوئم صفحہ 412پر تحریر بھی کیا ھے
مفتی امجدی کے اس مزعومہ کا تجزیہ بزرگان خاندان برکاتیہ اور خود فاضل بریلوی کی تحریروں کے آئینے میں ھدیہ ناظرین ھے اور انصاف و دیانت سے پڑھنے اور فیصلہ کرنے کی گزارش ھے
سب سے  پہلے ہم فاضل بریلوی کی کتاب سے یہ ثابت کرنا چاھیں گے کہ خود انھیں سلسلہ بدیعیہ مداریہ میں بیعت و خلافت کی اجازت تھی

فاضل بریلوی جو سلسہ رضویہ کے امام اور اعلیحضرت ھیں سلسلہ مداریہ میں بیعت و خلافت کا ذکر اپنی کتاب الاجازۃ المتینۃ لعلماء بکۃ والمدینہ. میں اسطرح کرتے ھیں

خامسا اجزتکم بجمیع سلاسل الطریقۃ الانیقۃ اللتی انا مجاز بھا و ماذون فیھا بالاستخلاف لارشاد الخلیفۃ للخلیفۃ وھی الطریقۃ العلیۃ العالیۃ القادریۃ البرکاتیۃ الجدیدۃ الی ان قال والسلۃ البدیعیۃ
یعنی طریقت کے ان تمام دل پسند  سلسلوں کی بھی اجازت دیتا ھوں جنکی مجھے اجازت حاصل ھے -
جنمیں کسی کو اپنا قائم مقام خلیفہ ؛ جانشین کرنے کا صاحب خلافت کے ارشاد کے مطابق میں ماذون ھوں وہ سلاسل طریقت یہ ھیں (1)طریقئہ عالیہ قادریہ برکاتیہ جدیدہ (12)سلسلہ بدیعیہ  ( مداریہ  )
الاجازۃ المدینۃ الملقب بہ علماءحرمین کے اجازت نامے مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئ صفحہ 82/83
فاضل بریلوی کی عبارت میں یہ عبارت اھل علم بہت غور سے دیکھیں  ماذون فیھا بالاستخلاف لارشاد الخلیفۃ للخلیفۃ اس عبارت نے تو مفتی امجدی کے مزعومے کی شہٍ رگ کاٹ دی ہے
عبارت میں اجزتکم بجمیع سلاسل الطریقۃ الانیقہ کے ضمن میں دل پسند سلسلوں میں سلسلہ مداریہ بھی شامل ھے جس سے ظاھر ھے کہ دیگر سلسلوں کی طرح سلسہ مداریہ بھی ایک مکمل سلسلئہ طریقت ھے
جس طرح اور چاروں سلسلے ناقص اور عیبی نھیں ھیں انھیں کی  طرح سلسلہ مداریہ بھی ھے
و انا مجاز بھا و ماذون بالاستخلاف لارشاد الخلیفۃ للخلیفۃ کی قید لگا کر اس مقام پر فاضل بریلوی نے. اپنے  مافی الضمیر اور منشا و مراد کو  صاف واضح فرمادیا ھے..
اور ظاھر کردیا ھے کہ سلاسل مذکورہ میں بشمول سلسلہ بدیعیہ مداریہ  کسی کو اپنا خلیفہ و قائم مقام بنانے کی مجھے اسی طرح اجازت و اذن حاصل ھے جیسا کہ ایک خلیفہ دوسرے کو خلافت دیتا ھے
اتنی صراحت کے باوجود بھی اگر اب بھی کوئ یہ کہتا ھے کہ فاضل نریلوی کو سلسلہ بدیعیہ مداریہ میں بیعت کرنے خلافت و اجازت نھیں تھی بلکہ صرف اوراد و شغال کی اجازت تھی
تو بلا شبہ یہ فاضل بریلوی کے دینی و ادبی شعور پر انگلی اٹھاتا ھے
علماے ذی فہم کی آنکھوں میں دھول جھو کنے کی کوشش کامیاب نھی ہو گی

اسی الاجازۃ المدینہ 100/101 پر خود فاضل بریلوی فرماتے ھیں کہ میں انھیں طریقت کے ان تمام سلسلوں کی بھی اجازت دیتا ھوں جن کی مجھے اجازت ھے اور خلیفہ بنانے کا اذن ھے وہ سلاسل طریقت یہ ھیں (1) طریقہ عالیہ قادریہ برکاتیہ جدیدہ...............
........................ (11)سلسلہ بدیعیہ
فاضل بریلوی صاف صاف اقرار فرما رھے ھیں کہ طریقت کے ان تمام سلاسل میں مجھے خلیفہ بنانے کا اذن ھے
لیکن مفتی امجدی اور ان جیسے کچھ حضرات عنادا  مداریہ سلسہ کی مخالفت میں کہے جا رہے ھیں کہ فاضل بریلوی کو سلسلہ مداریہ میں بیعت کرنے کی اجازت و خلافت نھیں تھی
اسے قائل کے منشاء و مراد کے کے اپنی ضد منوانے کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ھے?
ارباب فکر ودانش اور علماء خیر پر یہ بات بھی مخفی نھیں ھوگی کہ اوراد و وظائف کی اسناد کو طریقت و تصوف میں شجرہ و سلسلہ نھیں کہا جاتا ھے
شجرہ و سلسلہ کچھ اور ھے اور اسناد اوراد و اشغال کچھ اور
خاندان برکاتیہ کے بزرگوں نے بڑی دیانت داری کے ساتھ اس امر کو واضح فرمایا ھے
اگر انھیں سلسلہ میں بیعت کرنے کی خلافت ملی ھے تو صاف لفظوں میں تحریر فرمادیا ھے اور اگر کھیں.محض اوراد و اشغال کی اجازت ملی   ھے تو اسے بھی نقل کردیا ھے  آگے ملاحظہ ہو سنہ1333ھجری کی تالیف مدائح حضور نور  المشھور بہ تذکرہ نوری جو فاضل بریلوی کی وفات سے تقریبا سات سال پہلے لکہی گئی ھے جسکا عربی نام تنویر العین من کنز مدائح السید ابی الحسین ھے
کتا کا مولف قاضی غلام شبر قادری بدایونی ھے اور جدید ترتیبکار شھید بغداد جناب اسید الحق قادری ھیں  واضح ھو کہ ملک العلماء مولانا ظفر الدین بہاری نے اپنی کتاب حیات اعلیحضرت میں ایک اخبار کا تراشہ نقل کیا ھے کہ مولانا مفتی حاجی قاری شاہ احمد رضا خان صاحب قبلہ قادری برکاتی بریلوی نے 25صفر 1340ھ مطابق 28اکتوبر1921ءیوم جمعہ کو 2 بجے انتقال فرمایا مرحوم ایک عرصہ سے علیل و کمزور رھتے تھے (حیات اعلیحضرت مطبوعہ پور بندر جلد دوئم صفحہ 590
.اس تحریر سے ثابت ھوا کہ تذکرہ نوری نامی کتاب فاضل بریلوی کی حیات میں ھی لکھی جا چکی تھی کتاب کا مولف فاضل بریلوی کا ھم عصر تھا
مولف تذکرہ نوری اپ ے مرشد اجازت و خلافت کی خلافت و اجازت کی سند اسطرح نقل کرتا ھے

نقل سند خلافت و اجازت حضور قدس سرہ
اللہ ولا سواہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد للہ رب العالمیں والصلٰوۃ عالسلام علٰی سید المرسلین محمد و آلہ اجمعین
می گوید فقیر حقیر آل رسول احمدی کہ چوں نور دیدہ وسرورسینہ قرۃ عینی و فواد قلبی. سید ابو الحسین احمد نوری ملقب بہ میاں صاحب طول عمرہ و زید قدرہ را اجازت سلاسل خمسہ قادریہ, چشتیہ, و نقشبندیہ, و سہروردیہ و مداریہ قدیمہ و جدیدہ وقادریہ رزاقیہ و علویہ منامیہ

وھم اجازت جملہ اذکار و اشغال و اوراد معمولہ خادان برکاتی بہ ھیچ کہ فقیر را از جناب عموی و مرشدی و مولائ حضرت سید شاہ ابوالفضل آل احمد اچھے صاحب انار اللہ تعالیٰ برھانہ و ھم از جناب ابوی و قبلہ گاہی حضرت سید آل برکات ستھرے صاحب نور اللہ تعالی مرقدہ اجازت رسیدہ است دادم وجاز و ماذون گردانیدم ہر کسے کہ ارادئہ بیعت نماید و مرید شود اورا داخل سلسلہ عالیہ نمایند و مرید کنند و موافق استعداد او از ذکر و شغل.و وردخاندانی مامور سازند

والمسئولۃ من اللہ سبحانہ الاستقامۃ علی جادۃ اکابر تلک الطریقۃ واللہ المستعان و علیہ التکلان تحریر تاریخ دوازدھم ربیع الاول 1267ھ15جنوری1851ء
آل رسول احمدی
تذکرہ نوری ص150 مطبوعہ تاج الفحول اکیڈمی
علماء کرام اس سند کو بغور پڑھیں یہی وہ سند.خلافت  ھے جو بعد.میں  فاضل بریلوی اعلیحضرت کو پہنچی ھے
اس سند سے ایک بات تو یہ معلوم ھوئ کہ فاضل بریلوی کی پیدائش سے پہلے ان کے پیر خانہ میں سلسلہ مداریہ قدیمہ و جدیدہ کی خلافت بیعت اسی طرح جاری و ساری تھی جس طرح اور سلسلوں کی خلافت بیعت جاری تھی اور قدیمہ و جدیدہ کی اصطلاح سے جو واقف ھیں وہ سمجھ گئے ھون گے کہ خاندان برکاتیہ میں سرکار سید ابوالبرکات کے اجداد گرامی کو بھی سلسلہ مداریہ کی خلافت حاصل تھی اور سرکار ابو البرکات کے پیر خانہ یعنی اھل کالپی کو بھی سلسلہ مداریہ کی خلافت حاصل تھی
نیز یہ بھی معلوم ھوا کہ یہ خاص خلافت بیعت کی سند ھے نہ کہ اوراد و وظائف کی جیاسا کہ مفتی امجدی نے گمان فاسد کیا ھے. ناظرین و قارئین!
دیکھییے!  خود ناقل سند خلافت و مولف کتان ب کیا فرماتے ھیں ؟
آپ رقمطراز ھیں علاوہ اس سند کے جو خاص خلافت سے متعلق بروز جشن ولادت حضور سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم خلافت ھوئی تھی تذکرہ نوری ص151 دوسری بات یہ ثابت ھوگئی کہ سرکار نور کو سلاسل خمسہ مذکورہ کی سند خلافت انکے پیر و مرشد نے الگ دی تھی اور جملہ اذکار و اشغال و اوراد معمولہ خاندان کی اجازت الگ دی جیسا کہ سند کی عبارت سے صاف ظاہر ھے اتنی صاف ستھری پیر خانہ کی وضاحت کے بعد بھی یہ کہنا کہ سلسلہ مداریہ میں بیعت کرنے کی خلافت و اجازت نھیں تھی بلکہ صرف اوراد و اشغال کی اجارت تھی دن کے اجالے میں آنکھ میں دھول جھونکنے کے مترادف ھے بلکہ اپنے پیروں کو جھٹلانے اور انکی منشاء و مراد سے پھر جانے کی دلیل ھے
مجھے امید ھے انصاف پسند علماء کرام اپنی عدالت میں انصاف کا سر اونچا کریں گے

تذکرہ نوری میں جو فاضل بریلوی کے زمانے کی تالیف ھے صاف صاف مرقوم ھے کہ سرکا ر سیدنا ابو الحسین نوری کو سند خلافت سلاسل خمسہ مذکورہ میں 1267 ھجری میں عطا کی گئی اور اوراد و وظائف اور اشغال واعمال کی اجازت 1275سے 1280 ھجری کے درمیان دی گئی
ملاحظہ ھو حضرت سیدنا ابو الحسین نوری کی نجی ڈایری
مولف تذکرئہ نوری قاضی غلام شبر قادری بدایونی تحریر فرماتے ھیں کہ مرشد کے بیاض شریف دستخطی میں ارقام ھے -
در 1267 ھجری دوازدھم ماہ ربیع الاول این فقیر مسمیٰ سید ابو الحسین احمد نوریعرف میاں صاحب بدست حضرت پیر و مرشد جدی سید شاہ آل رسول احمدی مد ظلہ تعالٰی مرید شد و بامر خلافت مامور شد. و شب ھفدھم ماہ مذکور و سنہ مذکور پیر و مرشد برحق بر مسند سجادہ نمایندہ از دست مبارک خود روپیہ نظر گزرانیدند و جائے نشین خود نمودندھما روزفیض باطنی پیر و مرشد تعلیم رسید. و شال المعظم 1275 ھ(1859ء)میں دعوت سورہ واقعہ,چہل اسماء و حیدری و اسمائے اصحاب کہف و اسم بدوح و حزب البحر اور 1275میں بماہ شعبان عمل شجر زر اور 1275 ھ.بما ہ ذیقعدہ دعوت اللہ لطیف بعبادہ اور 1273ھ(1856/57)میں سیفی کلاں اور 1280ھ(1863)ماہ صفر میں عمل چہار شنبہ اور 1279ھ(1862ء)بشمخ ,قرشیہ, برھتی,واقعہ صلوٰۃ الختاماور 1280 ھ میں ماہ شوال میں بانت العظمت و سی و سہ آیت و نود ونہ نام, حروف تہجی شامل وظیفئہ حضور ھوئے
اب تو تاریخ بتاریخ وضاحت ھو گئی کہ سلاسل خمسہ بشمول سلسلہ مداریہ کی خلافت بیعت کی اجازت بارہ سو سڑسٹھ میں ھی ھوگئی تھی

اور اوراد و اشغال بشمول اوراد مداریہ کی اجازت آٹھ دس سال کے بعد ملی
پھر بھی یہ بڑے بڑے مفتی لوگ عوام اھل سنت کی آنکھوں میں دھول جھونک کر سلسہ مداریہ سے اپنا حساب چکا رھے ھیں اور ڈھول پیٹ رھے ھیں کہ سلاسلہ مداریہ میں بیعت کرنے کی خلافت نھیں تھی بلکہ. صرف  اوراد و اشغال کی اجازت تھی. یا للعجب
پیر چیزے می گوید و مرید چیزے دیگر
واللہ الموفق وعلیہ التکلان

ولیعہد خانقاہ مداریہ سید ظفر مجیب مداری 

دارالنور مکنپور شریف ضلع کانپور یوپی 919838360930

Comments

Popular posts from this blog

Hazrat syed badiuddin Ahamad zinda shah madar

Qutbulmadar histotry