Type Here to Get Search Results !

Dargha Zinda Shah Madar makanpur

Hindustan k Pahele Sufi buzurg Aur awwal daayie islam Hazrat Syed Badiuddin ahamad QutbulMadar Zinda Shah Madar Halabi o shami :

آداب حاضری دربار قطب المدار

*آدابِ حاضری دربار عالیہ مداریہ*
حضور سيدى سيد قطب المدار زنده شاه مدار قدس سره کے آستانہ عالیہ پر حاضری کا ایک خاص دستور ہے، يہاں نہایت ادب ضروری ہے، نگاہ نیچی هو،مدار پاک كا تصور ذہن وفکر پر مسلط ہو،
 یہ یقین ہو کہ قطب المدار خلیفۃ اللہ فی الارض ہوتا ہے ظہور انوار ذات کا مرکز ہوتاہے،وہ نائب رسالت ہوتاہے،وہی منظور نظر الٰہی ہوتا ہے ،حق تعالیٰ کا فیض اسی کے واسطے سے عالم اور سارے جہاں کو پہنچتا ہے۔ وہ جہاں قدم رکھ دیتا ہے وہ جگہ بقعۂ رحمت اور مہبط فیضان بن جاتی ہے ، برکات وانعامات الٰہیہ کا نزول ہونے لگتا ہے، عارف باللہ امام شعرانی قدس سرہ النورانی  کے اس مشاھدہ پر یقین جمائے ہو کہ
,,رُوْحَانِيةُ الْوَلِيِّ اَذَا دَخَلَ مَكَانَاً اَوْ مٓشَيٰ فِي الْاَرْضِ تَبْقَيٰ تلك الروحانيةُ في ذالك المكانِ سِتَّةَ اَشْهُرٍ كما يشهده اَرْبابُ القلوبِ فَكَيْفَ فِي الْمَكانِ الَّذِي كَانَ مَسْكَنَ الوليِّ ليلاً و نهاراً "يعنى ولي كى روحانيت كى ىه شان هے کہ جب وہ کسی مکان میں داخل ہوتا ہے یا کسی سرزمین میں قدم رنجہ ہوتا ہے تو اس کی روحانیت کی برکت اس مکان میں چھ ماہ تک بنی رہتی ہے جیساکہ ارباب قلوب کا مشاہدہ ہے تو کیا عالم ہوگا اس مکان شریف کا جہاں  دن رات اللہ کے ولی کا قیام رہتا ہے"
بغیر طہارت یہاں حاضری نہ ہو، اور زائر کو یہ تصور قائم رہے کہ یہ وارث سرکار رسالت ہیں ممکن ہے کہ ملٰئکہ بھی ان کے مزار کے گرد ہوں ،اور کم از کم یہ تو طے ہے کہ درگاہ کا حرم مقدس مَمَرًَاولیائے کرام  و گزرگاہ صلحائے عظام ہے  ممکن ہے کسی کے نشان قدم پر قدم پڑ جائے تو نجات اخروی کا سبب بنے اس لیئے بڑے وثوق واعتماد اور یقین و استناد کے ساتھ قدم بڑھائے ۔
فتاویٰ رضویہ میں تیسیر شرح جامع صغیر کے حوالے سے هے
 کہ "اِنٌَ لِلّٰهِ عِبَاداًاِذَاْ نَظَرُوا اِلیٰ اَحَدًٍاَکسَبُوہ سعادۃَالاَبَدِ" یعنی اللہ کے کچھ بندے ہیں کہ جب ان کی نگاہ کسی پر پڑ جاتی ہے وہ اسے ہمیشہ کی سعادت عطا فرما دیتے ہیں ۔۔۔۔۔
اولیاءاللہ وارثانٕ سرکار رسالت ہیں ۔ممکن کہ ملٰئکہ ان کے مزارات کے گرد بھی ہوں اور ایسے امور میں علم درکار نہیں۔
 تعرض نفحات کی شان یہ ہے کہ ،شاید، و' لَعَلّ' پر ہو ،مع ھٰذا مزارات اولیائےکرام ہر جانب سے مَمَرِّ صلحائے عظام ہوتے ہیں سیدنا عیسیٰ علیٰ نبینا الکریم وعلیہ الصلاۃ والسلام سے عرض کی گئی کہ حضور ایک جگہ قیام کیوں نہیں فرماتے شہروں شہروں جنگلوں جنگلوں دورے کیوں فرماتے ہیں ؟
فرمایا :اس امید پر کہ کسی بندۂ خدا کےنشان قدم پرقدم پڑ جائےتو میری نجات ہو جاوے ،
جب نبي الله و رسول اللہ کہ خمسۂ اولو العزم میں ہیں صلوٰت اللہ وسلام علیھم کہ ان کا یہ ارشاد تواضع ہے، 
تو ہم تو سخت محتاج ہیں۔
 (فتاویٰ رضویہ ج٢٢ص٣٩٥رضا فاؤنڈیشن لاہور) یہ دیار محبت ہے یہاں قدم قدم سنبھال کے رکھے ،طہارت کے ساتھ حرم اول مىں داخل ہو ، یہ تصور کرتے ھوئے کہ میں اس قطب المدار کے آستانہ پر حاضر ہوں  جو دل کی دھڑکنوں سے بھی آگاہ ہے ،
 یہاں چپہ چپہ رحمت ونور کی بارش ہو رہی ہے، 
رجال الغیب كا  هر جگه حصار ہے، صاحب مزار کا تصرف بہت قوی ہے، وہ ہمارے حال و احوال سے واقف ہیں،باب حرم سے داخل ہو تو کلمۂ طیبہ پڑھتے ہوئےدہلیز کو با ادب عبور کرےحرم ثانی میں مزارات مقدسہ کو سلام پیش کرتے ہوئے  سیدھے حرم دربار میں داخل ہو،
 اور*مکی جالی* کے قریب جائےجو مغرب کی سمت ہے، اسے گروہ طالبان كي جالی بھی کہتے ہیں اور سلام پیش کرے،”السلام علیک یا فضلَ اللہ،یاسیِّدُ بدیعَ الدینِ قطبُ المدارِشَیْأً لِلّٰهِ،پھر فاتحہ پڑھے، *طریقۂ ختم خواجگان مداریہ* فاتحہ میں متعدد سورتیں جو یاد ہوں پڑھے سورۂ زلزال  ،دو مرتبہ اور سورۂ کوثرایک مرتبہ  و  سورۂ كافرون ایک مرتبہ کے بعد 
سورۂ اخلاص ١١ مرتبہ پڑھے 
اور اس کے بعد سورۂ فلک ایک بار سورۂ ناس ایک بار
 سورۂ فاتحہ ایک بار 
سورۂ بقر مفلحون تک
 اس کے  بعد والٌھُکُم اٍلٰهٌ واحد الیٰ آخرہ
 پڑھے 
پھر درود ابراھیمی اور درود مداری پڑھے  اور ،ختم خواجگان مداريه کرے۔اوردعاۓ حاجات پڑھے .پھر دونوں ہاته‍  اٹھا کر نذر پیش کرے  ۔ یا اللہ یا رحمٰن یا رحیم یا دَایِمُ یَا قَدِیمُ یا اَحَدُ یا وَتْرُ یا فَرْدُ یا صَمَدُ یا مَنْ لَمْ یَلِد وَلَم یُولَد وَلَم یَکُن لَهُ کُفُواً اَحَدٌ یا حَیُّ یا قیومُ برحمتک یا ارحم الراحمین یا واسع یا باسط یا رزاق یا ذاالفضل الکریم یا غنی یا مغنی یا رب العالمین 
الہ العالمین جو کچھ پڑھا وہ تیرے حبیب کی بارگاہ میں نذر ہے 
قبول و مقبول فرما ان کے صدقے جملہ انبیاء و مرسلین علیہم الصلوات والتسلیم کی بارگاہوں میں نذر  ہے قبول و مقبول فرما اور  انکے طفیل اولاد پاک رسول عليه الصلاة و السلام و خلفاۓ راشدین سابقين اولين و  حضرات حسنین کریمین و  ازواج مطہرات،و اصحاب بدرو احد و عشرہ مبشرہ وجملہ صحابہ و صحابیات و شھداۓ کربلاء و  تابعین وتابعات رضوان الله تعالى عليهم اجمعين کی ارواح طیبات کو نذر پیش کرتے ہیں قبول و مقبول فرما .
خصوصا تیرے محبوب کے سلسلے کے جمیع مشائخ و خصوصا قطب المدار سید بدیع الدین احمد زندہ شاہ مدار اور ان سے منشعب سلاسل حقہ ہفت گروہ کے مشائخ خادمان دیوانگان عاشقان، طالبان، حسامیان،  اجملیان و مخدومیان کے جملہ مشایخ کو نذر قبول و مقبول فرما اور میری میرے والدین، عزیز و اقارب،اور محبین و متوسلین کی مغفرت فرما کر اپنی خوشنودی عطا فرما، بحق سیدنا محمد والہ وصحبہ اجمعین یا ربّ العالمین 
 یہ سجادہ نشین حضرت سید محمد مجیب الباقی مداری و خواجہ سید مصباح المراد مداری کے خانوادے کا معمول ہے.
 اور  
 شیخ المشائخ سید انتخاب عالم ابن حضرت سید خورشید عالم قدس سرہ  فرماتے ھیں کہ ہر جالی پر ہفت اسماۓ طبقاتی جو تحفۃالابرار میں بھی  منقول ہیں ان کے ساتھ اس طرح سلام پیش کرے السلام علیک یا نجمَ اللہ ۔السلامُ علیک زینَ اللہ السلام علیک یا صبغةَاللهِ السلامُ علیکَ یا فضلَ اللهِ السلامُ علیکَ یا فریدَ اللهِ السلامُ علیکَ یا مُجتَمَعَ اللهِ السلامُ عليكَ یا بدیعَ اللهِ 
  لیکن اس سے پہلے دعائے محمودی کا یہ حصہ دعا میں ضرور شامل کرے   اَنْتَ سيدي و مولائي  ,,اِنِّیْ عَاجِزٌ فی کل شیئٍ یا رئیس المدار ،  انی  جاھل فی علم اللہ تعالیٰ اعطنی علما نافعا یا مولانا المدار   انی فقیر غریب کلب مضطر انت غفور اشفق علیًَ بحرمتک یا سیدی المدار  یا نورُ یا مُنَوِّرُ یا حافظ خُذْ بیدی یا سلطان المدار  یا ولی یا بدیع   خذ بیدی یا سید المدار یا مُشفق المدار یا مدار شیخونا یا مدار ھَنجَلِیشَا یا مدارَ الاَتْقیِاء اَحیِنِی اَیَا ھِیطَ یا مدارَ السِّلمِ تَغِیطَ  یا مدارَ الجبالِ یا مدار الاٰنھمون یا مدارَ الأِکلیل یا مدارَ البطوشا یا مدار الحق بالمقتدر یا مدار مفرد یا مدار صمد یا مدار وَطَالَ۔ 
 
**تحفۃ الابرار* 
*و مناجات مداریہ*

تحفۃ الابرار مولفہ1616ء
میں ہے درگاہ عالیہ مداریہ میں مناجات اس طرح   پڑھے۔
*مناجات بدرگاہ قطب المدار*
بسم اللہ الرحمٌٰن الرحیم 
يَا اَللّٰهُ 
يااَللّٰهُ يَااَللّٰهُ
 يا مدارُیَا مَدارُ يامُنِىرَ المدَارِ ،يَا مُنِيرَ المنيرِ
 يَا بَرقَلِيطَس،يَابَرفَلِيس يا اٍهياً 
يا اٍشرَاهٓياً، اٰذوني اَصبَاؤثُ اَصْبَاؤثُون يا مَدَارَالذى لا بِدَايةَ لٍذاتهٖ و لا نهايةَ لِصِفَاتِهٖ يا مدارَالدُّنْيَا وَالاٰخِرَةِ يا مدارَ السمٰواتِ وَالْاَرْضِينَ يا مدارَالاَروَاحِ ورُوحِ الَامِينَ ويا مدارَالملٰئكةٍ المقربين ..
يا قطبُ المدار!اِنٌِي عاجزفي كلٌِ شيئ يا رئيسُ المدار إني مَردُودٌخُذْبيدي يا سلطانُ المدار اِنٌِى فقيرٌ في الفَقرِ الظاهرِ اِئتِنِيْ غِنَي الظَاهِرِ وَالبَاطِنِ يا شيخُ المدارُ اِنِّي محجوبٌ في المقاماتِ والمُشاهداتِ إئتني مقاما مشاهدا ويا علماء المداراني جاهل بعلم الله تعالى علٌِمنِي علماًنافعاًبرحمتك يا ارحمَ الراحمين
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر درود مداری پڑھتا ہوا سرہانے کی جالی پرجائے جسے گروہ دیوانگان کی جالی بھی کہتے ہیں اور ہفت اسمائے طبقاتی کے ذریعہ سلام پیش کرے پھر یہ پڑھے السلام علیک یا حضرت رجال الغیب  یا السلام علیک یا ارواح المقدس و یا ارواح المطہر یا عباد الله اعينوني بقوة فانظرونى بنظرة يا رقباء يا نجباء ،يا اخيار،يا سياح يازهاد يا عباد يا ابدال يا اوتاد يا غوث ىا قطب يا قطب القطاب يا صمد يا مدار اعينوني اعينوني اعينوني اغيثوني اغيثوني اغيثوني بحق اياك نعبد واياك نستعين وبحق سيدنا محمد واله ،
*درود مداری*

 درود مدارى یہ ہے:
”اَللّٰهَمَّ صَلِّ عَلىٰ سَيِّدِنَا وَمَولَانَا مُحَمَّدَ نَ النَّبِيِّ الاُمِّيِّ وَآلِهٖ المَدَارِ البَدِيعِ الكَرِيمِ اِبنِ الكَرِيمِ وَبَارِك وَسَلِّم“ 
 قمرالمشائخ وارث ابو الوقار حضور سیدی و مرشدی سيد ذوالفقار علی قمر فنصورى مداری قدس سرہ العزیز و  حضور سیدی  ظھیر المشائخ سید ظہیر المنعم المعروف بہ ببّن میاں طيفورى قدس سرہ النوراور حضور سيدى بابا ولى شكوه ارغونى قدس سره فرماتے تھے کہ اس درود شریف کو اگر معمول میں رکھو گے ،اور کثرت سے پڑھو گے تو ان شاءاللہ تعالىٰ حضور مدار پاک کی زیارت مقدسہ سے مشرف ہوجاوگے۔( ان تىنوں بزرگوں کی بےشمار نوازشات اور عنايتيں اس فقیر مداری ابوالحمّاد حیدری پر رہیں )
اور اگر یاد ہوتو دعائے بشمخ شریف پڑھے ۔ اور دعائےبشمخ شریف یہ ہے:
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ
 اَللّٰهُمَّ يَا بَشْمَخُ بِشْمُخُ ذَالَاهَامُو شِيْطِيْثُونْ .
اَللّٰهُمَّ يَاذانُوْمَلْخُوْثُوْدَمُوْثُوْ دَائِمُوْنْ،
اَللّٰهُمَّ يَاخِيْثُوْمَيْمُونَ اَرْقِشْ دَارَ عِلِّيُوْنْ ،
اَللّٰهُمَّ يَارَحْمِيْثا رَحلِيْلُونَ مَيْتَطِرُوْنْ ،
اَللّٰهُمَّ يَارَخِتيْثُوْاَخْلَاقَ اَخْلَاقُوْنْ،
اَللّٰهُمَّ يَارَحمِيْثُوْ اَرْخِيْمَا اَرْخِيْمُوْنْ،
اَللّٰهُمَّ يَا إِهْيًا اِشْرَاهِيَا اَذوْنِيْ اَصْبَاؤُثُوْاَصْبَاءُثُوْنْ ،
اَللّٰهُمَّ يَا اَرْغِشْ اَرْعِيْ تَطْلِيْثُوْنْ،
اَللّٰهُمَّ يَا اَشْبَرُاِشْبَرُ اَسْمَاءُاَسْمَاءُوْنْ،
اَللّٰهُمَّ يَا مَلِيعُوْثا اَمْلِيْخَا مَلْخَامَلْخُوْنْ،
اَللّٰهُمَّ يَا عَلَّامُ اَرْعِدْاَرْعِيْ يَذْنُوْنْ ،
اَللّٰهُمَّ يَا مَشْمَخُ مَشْمَخِيْثَا مَثَلَامُوْنْ،
اِنَّمَاۤ اَمۡرُہٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَیۡئًا اَنۡ یَّقُوۡلَ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ﴿۸۲﴾فَسُبۡحٰنَ الَّذِیۡ بِیَدِہٖ مَلَکُوۡتُ کُلِّ شَیۡءٍ وَّ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ﴿٪۸۳﴾  انتخاب المشائخ موصوف نے اپنی مجلسی گفتگو میں فرمایا کہ دعائے بشمخ شریف پڑھنے سے سے قبل اس کا حصار ضرور پڑھے ،اس میں اسماء جلالی ہیں اور احتیاط لازمی ہے اس لیئے دعائے حصار ضرور پڑھ لے 
دعائے حصار حضرت انتخاب المشائخ موصوف کےخلیفہ صوفی قاری افتخارعلی بہرائچی نے رسالہ حجۃ النجات میں نقل فرمایا ہے اور سیر المدار کے مصنف نے بھی یہ حصار سیر المدار میں درج کیا ہے 
*حصار دعائے بشمخ شریف*

بِسْمِ اللّہِ  الرَّحْمٰنِ الرحيم
اَللّٰہُمَّ یَاحَافِظَ نُوْحٍ فِی الْمَاءِ وَیُوْسُفَ فِی الْبِئْرِ وَاَیُّوبَ فِی الضَّرِّوَمُوْسٰی فِی الْیَمِّ وَعِيْسٰي فِي الرَّحْمِ وَيُوْسُفَ فِيْ بَطْنِ الْحُوْتِ وَاِبْرَاهِيْمَ فِي النَّارِ وَاِسْمٰعِيْلَ تَحْتَ السِّكِّيْنِ وَمُحَمَّدٍ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَارِ اِحْفَظْنَا مِنَ الْأَعْدَاءِ وَالْحُسّادِ،اَللّٰهُمَّ صَلَّ عَلٰي سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ نِ النَبِيِّ الْاُمِّيِّ وَآلِهٖ الْمَدَارِ الْبَدِيْعِ الْكَرِيْمِ،وَأُفَوِّضُ اَمْرِيْ إلَي اللّٰهِ إنَّ اللّٰهَ بَصِيْرٌ بِالْعِبَادِ وَإِذَا سَالَكَ عَنِّيْ فَإِنِّيْ قَرِيْبٌ أُجِيْبُ دعوة الداع إذا دعان فليستجيبوا إلي واليؤمنوابي ،لعلهم يرشدون عالم الغيب فلا يظهر على غيببه احداإلا من ارتضي من رسول فإنه يسلك من بين يديه ومن خلفه رصدا وماكان لبشر أن يكلمه الله إلا وحيا أو من وراء حجاب أو يرسل رسولا فيوحي بإذنه مايشاء إنه علي حكيم،وكذلك أوحينا اليك روحا من أمرنا ماكنت تدري ماالكتاب ولاالايمان ولكن جعلناه نورا نهدي به من نشاء من عبادنا وانك لتهدي إلي صراط مستقيم صراط الله الذي له ما في السموت وما في الأرض،ألا إلي الله تصير الأمور،حسبي ربي جل الله مافي قلبي غيرالله ،نورمحمد صلى الله،لا إله إلا الله محمد رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم وصلي الله تعالى عليه وعلي خير خلقه سيدنا محمد وآله وأصحابه وأتباعه أجمعين والحمد لله رب العالمي
اس کے بعد اختتامِ دعائے بشمخ پڑھے 

*اختتام دعائے بشمخ **

اَللّٰهُمَّ اِنِّىْ اَسْئَلُكَ يَا اَللّٰهُ يَا اَللّٰهُ يا اَللّٰهُ اَنْ تَحْفِظْنِيْ مِنْ كُلِّ بَلَاءٍ وآفةٍوَعَاهَةٍوَوَجْعٍ وَمِنْ كُلِّ عِلَّةٍ وَبَلِيَّةٍ وَمِنْ كُلِّ فِتنَةٍ وَشِدَّةٍ وَزِلزَالٍ وَزَلْزَلَةٍ وَمِن كل شرالانس والجن ومِنْ كُلِّ شَرِّ السُلْطَانِ الْجَابرِ ومِنْ كُلِّ حاسِدٍ اذا حسد َالٰهى بحقِّ هٰذهٖ الأسماءِ الْعِظَامِ وَبِحَقِّ يا هُو وَبِحقِّ يا من لا الٰه إلا هو احفظني مِنْ جَمىعِ البلاءَ والاٰفاتِ والامراضَ بحق سيدنا محمدٍ سيدِ الانبياءِ وَالمُرسَلِينَ وعلى آلِه وَأَصحابِه أجْمَعِينَ برحمتك يا ارحم الراحمين اَجِبْ يابَرهائيلُ يا برقائيلُ يا بَريوشُ سَامِعاً مُطِيعاًبِحَقِّ هٰذهٖ الأَسماءِ اَنْ تَقْضِىَ حَاجَاتِي يا رَبًّ الْعَالَمِينَ

اس کے بعد مشرقی جالی پرآئے جسے ارغونی جالی اور خادمان جالى بھی کہتےہیں،
وہیں "جنتی دروازہ" بھی ہے،اسی لئے اسے جنتی جالی بھی کہتےہیں،یہ دعا کا خاص مقام ہے،اس جالی پر جاکر کہے اَلسَّلامُ عَلَیکَ یا نجمَ اللهِ،پھر درود مداری 11/گیارہ بارپڑھے اور اپنامدعا عرض کرے اور  حضور مدار پاک کے وسیلے سے اپنے رب تعالیٰ سے خوب دعائیں کرے
 پھر پائینتی جالی پر کھڑے ہوکر یا مَجمَعَ اللّٰهِ یَا عبدَاللهِ زندانَ الصفوف  11/گیارہ مرتبہ پڑھے اس کے بعد استغفار پڑھے۔ یہ
استغفار افضل اور اسم اعظم پر مشتمل ہے ،حدیث شریف میں ہے 
اگر سمندر کى آگ کے برابر گناہ ہوں اس کے پڑھنے سے اللہ تعالیٰ وه سب معاف فرما دےگا 
*استغفار*۔ 
" اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ الَّذٍيْ لَا اٍلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ وَ اَتُوبُ اِلَيْهِ "
  اور اپنے مقاصد بیان کرے سرکار مدارکے وسیلے سے رب تعالیٰ سے دعاکرے،
پھر الٹے پاؤں کلمہ شہادت پڑھتا ہواجنوبی دروازے سے باہر آئے،پھر باہر نکل کر دعائے ابدال 3/تین بار پڑھے،
**دعائے ابدال**
 دعائے ابدال
 یہ ہے:


یَا لَطِیْفُ بِخَلْقِہِ یَاعَلِیْمُ بِخَلْقِہٖ
 يَا خَبِيْرُ بِخَلْقِهٖ اُلْطُفْ! اُلْطُفْ!اُلْطُفْ يَا لَطِيْفُ،يَاعَلِيْمُ يَا خَبِيْرُ ۔
اس کے بعد یہ دعا پڑھے۔
سُبحَانَ المَلِکِ القُّدُّوسِ سُبحَانَ المَلِکِ المَعبُودِ سُبْحَانَ المَلِکِ المَوجُودِ سُبحَانَ المَلِکِ المَقصُودِ سُبحَانَ المَلِکِ الحَیِّ الَّذِّی لاَّ یَنَامُ وَلَا یَمُوتُ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبَّنَا وَرَبُّ الم٘لٰئِکة 
 وَالرُّوحِ بِحَقِّ اِیَّاکَ نَعبُدُ وَاِیَّاکَ نَستَعِینُ 
پھر اس کے بعد یہ دعا مانگے۔
اَللّٰهُّمَّ احفِظْنَا مِنْ كُلِّ بِلَاءِ الدُّنیَا وَعَذَابِ الاٰخِرَةِ بِحُرمَةِ النَّبِيِّ الاُمِّیِّ وَآلِهٖ وَ بِحَقِّ السَ٘یِّدِ الشَّاهِ بَدِيعِ الدِّينِ الم٘دَارِ  
الوداعى سلام كرتا هوا حرم سے باہر نکل جائے 

 *درود مداری کبیر * اسے درود محمودی بھیں کہتے ہیں یہ درود  حضرت قاضی سید محمود الدین کنتوری سے منقول ہے حصول برکات ، فراخئ رزق  اور زیارت قطب المدار  کیلئے مجرب ہے خاصان بارگاہ"** باب مراد** کے پاس اسے پڑھتے ہیں ۔مہتمم درگاہ  عزیزی سید موجود عالم میاں مداری کی اجازت سے بغرض افادہ پیش خدمت ہے۔

 
یہ بہت ہی نافع و بابرکت ہے 

اَللّٰھُمَّ یَاحَیُّ یَا قَیُّومُ یَا سُبُّوحُ یَا قَدُّوسُ یَا اَحَدُ یَا صَمَدُ یَا مَنْ لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ وَلَمَ یَکُنْ لَهُ
 کُفُوًا اَحَدٌ، یَانُوْرُ یَامُنَوَّرُ یَاھَادِیُ یَا حَافِظُ یَا بَدِیْعُ یَا رَفِیْعُ یَا رَحْمٰنُ یَا رَحِیْمُ یَااَرْحَمَ الَّراحِمِیْنَ یَا سَرِیْعُ یَاحَنَّانُ یَا مَنَّانُ یَا بَدِیْعَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ یَا ذَاالْجَلَالِ وَالْاِ کْرَامِ یَابَدِیْعَ الْعَجَائِبِ بِالْخَیْرِ یَابَدِیْعُ یَاذَالَفَضْلِ الْع٘ظِیْمُ اَلْلًٰھُّمَّ یَا ھُوَ ھُوَ ھُوَ یَامَنْ ھُوَ ھُوَ یَا مَنْ لَااِلٰهَ اِلّا ھُوَ وَ یَامَنْ  لَااِلٰهَ اِلَّااَنْتَ اَلْلّٰھُمَّ صَلِّ وَ سَلِّمْ وَ بَارِکْ عَلَیٰ خَیْرِ خَلْقِهٖ مَدِینَۃِ الْعِلْمِ وَ نٰوْر‍ِ النُّورِ وَ سُرُورِ السُّرُوْرِ وّرُوْحٍ الرُّوْحِ وَ مفتاح الْخَزَائِنِ الْاِل‍ٰھِیٍّةِ وَمُخْتَار الحَضْرَۃِ الاَ حَدِیَّةِ وَعَرُوسِ الْمَمْلَکَةِ الرَّبَّانِیَةِ صَاحِبِ الْجِسْمٍ الْمُعَنْبَرِ الْمُعَطَّرِ الْمُقَدَّسِ الْمُطَھَّرِ الْمُنَوَّرِ الْمِسْکِیِّ الْنَّبِیِّ الْاِ مِّیِّ سَیِّدِنَا وَ سَنَدِنَا وَ شَیْخِنَا وَ شَفِیعِنَا وَ غَیَاثِنَا وَ مُغِيثِنَاوَ اَوَّلِيٰنَا وَ مَولَانَا الْسُّلْطَانُ سَیِّدِنَا مُحَمَّدَ نِ الْاَ حْمَدِ وَ اَصْحَابِهِ الْاَ خْیَارِ وَ آلِهِ الْا َطْھَارِ لَا سِیِّمَا عَلَیٰ ھٰذَا الْوَلِیِّ الْنُّورِیِّ اَعْجَبِ الزَّمَانِ وَ اَغْرَبِ الْمَکَانِ اَعَزًِالْعِزَّۃِ فِی الْفَوَادِ وَالْاَ کْبَادِ وَاَحَبِّ سَیِّدَتِنَا فَاطِمَةَ الزَّھْرَاءِ وَ سَنَدِنَا عَلَيِّ نِ الْمُرْتَضَیٰ وَ بَرْدِالْحَدَائِقِ الْعِطْرِیَّةِ سَیِّدِنَا الْحَسَنِ وَ الْحُسَینِ رِضْوَانُ اللّٰهِ تَعَالَیٰ عَلَیھِمْ اَجْمَعِینَ جَامِعِ الْاسْرَارِ مَجْمَعٍ الْاَنْوَارِ کَاشِفِ الرُّمُوزِ وَ الْاَسْتَارِ مَظْھَرَ الْعَجَائِبِ مَصْدَرِ الْغَرَائِبِ نَجْمِ شَرِیْعَةِ اللّٰهِ زَیْنِ مِلَّةِ بَیْضَاءِ رَسُولِ اللّٰهِ مَظْھَرِ جَمَالِ اللّٰهِ وَ مَنْبَعِ کَمَالِ اللّٰهِ قُطْبِ الْاِرْشَادِ قُطْبِ النَّظَامِ قُطب الاعظم قُطْبِ الاکبر قُطْبِ
 الْوَحْدَۃِ فَرَدِ الْاَفْرَادِ الَّذِیْ ھُوَوَرَاءِ الْوَرَاءِ اَرْفَعِ الْمَدَارِجِ سَیِّدِنَا و َ شَیْخِنا وَ شَفِیْعِنَا وَ غَیَاثِنَا وَ مُرْشِدِنَا وَ ھَادِیِنَا وَ حَامِیِنَا وَ اٰخِذِ حُجُزِنَا وَاَیْدِیَنَا اَلْاَمَامِ مَوْلَانَا الْسلُّطَانِ اَبِیْ تُرَابِ سَیِّدِیْ اَحْمَدَ بَدِیْعِ الدِّیٰنِ قُطْبِ الْمَدَارِ الْحَسَنِیْ وَ الْحُسَیْنِیْ الْحَلَبِیِّ وَ الْمَکَنْفُورِیِّ مَحبُوبِ الرَّسُوٰلِ الْھَاشِمِیِّ الْاَبْطَحِیِّ الْمَکِّیِّ الْتَّھَامِیِّ اَلْمَدَنِیِّ عَدَدَخَلْقِکَ وَرِدَادَنَفْسِکَ وَ مُرَادَ کَلِمَاتِکَ فِیْ کُلِّ لَمْحَةٍ مَّاوَسَعَهٔ عِلْمُکَ وَفَضْلُکَ وَوَصْلُکَ وَجُودُکَ و َکَرَمُکَ وَ عَدَدَ کُلِّ ذَرَّۃٍ مِائَةَ اَلْفِ اَلْفِ مَرَّۃٍیَا حَیُّ یَا قَیُّومُ بِرَحْمَتِکَ یَااَرْحَمَ الْرَّاحِمِین *آدابِ حاضری دربار عالیہ مداریہ*
حضور سيدى سيد قطب المدار زنده شاه مدار قدس سره کے آستانہ عالیہ پر حاضری کا ایک خاص دستور ہے، يہاں نہایت ادب ضروری ہے، نگاہ نیچی هو،مدار پاک كا تصور ذہن وفکر پر مسلط ہو،
 یہ یقین ہو کہ قطب المدار خلیفۃ اللہ فی الارض ہوتا ہے ظہور انوار ذات کا مرکز ہوتاہے،وہ نائب رسالت ہوتاہے،وہی منظور نظر الٰہی ہوتا ہے ،حق تعالیٰ کا فیض اسی کے واسطے سے عالم اور سارے جہاں کو پہنچتا ہے۔ وہ جہاں قدم رکھ دیتا ہے وہ جگہ بقعۂ رحمت اور مہبط فیضان بن جاتی ہے ، برکات وانعامات الٰہیہ کا نزول ہونے لگتا ہے، عارف باللہ امام شعرانی قدس سرہ النورانی  کے اس مشاھدہ پر یقین جمائے ہو کہ
,,رُوْحَانِيةُ الْوَلِيِّ اَذَا دَخَلَ مَكَانَاً اَوْ مٓشَيٰ فِي الْاَرْضِ تَبْقَيٰ تلك الروحانيةُ في ذالك المكانِ سِتَّةَ اَشْهُرٍ كما يشهده اَرْبابُ القلوبِ فَكَيْفَ فِي الْمَكانِ الَّذِي كَانَ مَسْكَنَ الوليِّ ليلاً و نهاراً "يعنى ولي كى روحانيت كى ىه شان هے کہ جب وہ کسی مکان میں داخل ہوتا ہے یا کسی سرزمین میں قدم رنجہ ہوتا ہے تو اس کی روحانیت کی برکت اس مکان میں چھ ماہ تک بنی رہتی ہے جیساکہ ارباب قلوب کا مشاہدہ ہے تو کیا عالم ہوگا اس مکان شریف کا جہاں  دن رات اللہ کے ولی کا قیام رہتا ہے"
بغیر طہارت یہاں حاضری نہ ہو، اور زائر کو یہ تصور قائم رہے کہ یہ وارث سرکار رسالت ہیں ممکن ہے کہ ملٰئکہ بھی ان کے مزار کے گرد ہوں ،اور کم از کم یہ تو طے ہے کہ درگاہ کا حرم مقدس مَمَرًَاولیائے کرام  و گزرگاہ صلحائے عظام ہے  ممکن ہے کسی کے نشان قدم پر قدم پڑ جائے تو نجات اخروی کا سبب بنے اس لیئے بڑے وثوق واعتماد اور یقین و استناد کے ساتھ قدم بڑھائے ۔
فتاویٰ رضویہ میں تیسیر شرح جامع صغیر کے حوالے سے هے
 کہ "اِنٌَ لِلّٰهِ عِبَاداًاِذَاْ نَظَرُوا اِلیٰ اَحَدًٍاَکسَبُوہ سعادۃَالاَبَدِ" یعنی اللہ کے کچھ بندے ہیں کہ جب ان کی نگاہ کسی پر پڑ جاتی ہے وہ اسے ہمیشہ کی سعادت عطا فرما دیتے ہیں ۔۔۔۔۔
اولیاءاللہ وارثانٕ سرکار رسالت ہیں ۔ممکن کہ ملٰئکہ ان کے مزارات کے گرد بھی ہوں اور ایسے امور میں علم درکار نہیں۔
 تعرض نفحات کی شان یہ ہے کہ ،شاید، و' لَعَلّ' پر ہو ،مع ھٰذا مزارات اولیائےکرام ہر جانب سے مَمَرِّ صلحائے عظام ہوتے ہیں سیدنا عیسیٰ علیٰ نبینا الکریم وعلیہ الصلاۃ والسلام سے عرض کی گئی کہ حضور ایک جگہ قیام کیوں نہیں فرماتے شہروں شہروں جنگلوں جنگلوں دورے کیوں فرماتے ہیں ؟
فرمایا :اس امید پر کہ کسی بندۂ خدا کےنشان قدم پرقدم پڑ جائےتو میری نجات ہو جاوے ،
جب نبي الله و رسول اللہ کہ خمسۂ اولو العزم میں ہیں صلوٰت اللہ وسلام علیھم کہ ان کا یہ ارشاد تواضع ہے، 
تو ہم تو سخت محتاج ہیں۔
 (فتاویٰ رضویہ ج٢٢ص٣٩٥رضا فاؤنڈیشن لاہور) یہ دیار محبت ہے یہاں قدم قدم سنبھال کے رکھے ،طہارت کے ساتھ حرم اول مىں داخل ہو ، یہ تصور کرتے ھوئے کہ میں اس قطب المدار کے آستانہ پر حاضر ہوں  جو دل کی دھڑکنوں سے بھی آگاہ ہے ،
 یہاں چپہ چپہ رحمت ونور کی بارش ہو رہی ہے، 
رجال الغیب كا  هر جگه حصار ہے، صاحب مزار کا تصرف بہت قوی ہے، وہ ہمارے حال و احوال سے واقف ہیں،باب حرم سے داخل ہو تو کلمۂ طیبہ پڑھتے ہوئےدہلیز کو با ادب عبور کرےحرم ثانی میں مزارات مقدسہ کو سلام پیش کرتے ہوئے  سیدھے حرم دربار میں داخل ہو،
 اور*مکی جالی* کے قریب جائےجو مغرب کی سمت ہے، اسے گروہ طالبان كي جالی بھی کہتے ہیں اور سلام پیش کرے،”السلام علیک یا فضلَ اللہ،یاسیِّدُ بدیعَ الدینِ قطبُ المدارِشَیْأً لِلّٰهِ،پھر فاتحہ پڑھے، *طریقۂ ختم خواجگان مداریہ* فاتحہ میں متعدد سورتیں جو یاد ہوں پڑھے سورۂ زلزال  ،دو مرتبہ اور سورۂ کوثرایک مرتبہ  و  سورۂ كافرون ایک مرتبہ کے بعد 
سورۂ اخلاص ١١ مرتبہ پڑھے 
اور اس کے بعد سورۂ فلک ایک بار سورۂ ناس ایک بار
 سورۂ فاتحہ ایک بار 
سورۂ بقر مفلحون تک
 اس کے  بعد والٌھُکُم اٍلٰهٌ واحد الیٰ آخرہ
 پڑھے 
پھر درود ابراھیمی اور درود مداری پڑھے  اور ،ختم خواجگان مداريه کرے۔اوردعاۓ حاجات پڑھے .پھر دونوں ہاته‍  اٹھا کر نذر پیش کرے  ۔ یا اللہ یا رحمٰن یا رحیم یا دَایِمُ یَا قَدِیمُ یا اَحَدُ یا وَتْرُ یا فَرْدُ یا صَمَدُ یا مَنْ لَمْ یَلِد وَلَم یُولَد وَلَم یَکُن لَهُ کُفُواً اَحَدٌ یا حَیُّ یا قیومُ برحمتک یا ارحم الراحمین یا واسع یا باسط یا رزاق یا ذاالفضل الکریم یا غنی یا مغنی یا رب العالمین 
الہ العالمین جو کچھ پڑھا وہ تیرے حبیب کی بارگاہ میں نذر ہے 
قبول و مقبول فرما ان کے صدقے جملہ انبیاء و مرسلین علیہم الصلوات والتسلیم کی بارگاہوں میں نذر  ہے قبول و مقبول فرما اور  انکے طفیل اولاد پاک رسول عليه الصلاة و السلام و خلفاۓ راشدین سابقين اولين و  حضرات حسنین کریمین و  ازواج مطہرات،و اصحاب بدرو احد و عشرہ مبشرہ وجملہ صحابہ و صحابیات و شھداۓ کربلاء و  تابعین وتابعات رضوان الله تعالى عليهم اجمعين کی ارواح طیبات کو نذر پیش کرتے ہیں قبول و مقبول فرما .
خصوصا تیرے محبوب کے سلسلے کے جمیع مشائخ و خصوصا قطب المدار سید بدیع الدین احمد زندہ شاہ مدار اور ان سے منشعب سلاسل حقہ ہفت گروہ کے مشائخ خادمان دیوانگان عاشقان، طالبان، حسامیان،  اجملیان و مخدومیان کے جملہ مشایخ کو نذر قبول و مقبول فرما اور میری میرے والدین، عزیز و اقارب،اور محبین و متوسلین کی مغفرت فرما کر اپنی خوشنودی عطا فرما، بحق سیدنا محمد والہ وصحبہ اجمعین یا ربّ العالمین 
 یہ سجادہ نشین حضرت سید محمد مجیب الباقی مداری و خواجہ سید مصباح المراد مداری کے خانوادے کا معمول ہے.
 اور  
 شیخ المشائخ سید انتخاب عالم ابن حضرت سید خورشید عالم قدس سرہ  فرماتے ھیں کہ ہر جالی پر ہفت اسماۓ طبقاتی جو تحفۃالابرار میں بھی  منقول ہیں ان کے ساتھ اس طرح سلام پیش کرے السلام علیک یا نجمَ اللہ ۔السلامُ علیک زینَ اللہ السلام علیک یا صبغةَاللهِ السلامُ علیکَ یا فضلَ اللهِ السلامُ علیکَ یا فریدَ اللهِ السلامُ علیکَ یا مُجتَمَعَ اللهِ السلامُ عليكَ یا بدیعَ اللهِ 
  لیکن اس سے پہلے دعائے محمودی کا یہ حصہ دعا میں ضرور شامل کرے   اَنْتَ سيدي و مولائي  ,,اِنِّیْ عَاجِزٌ فی کل شیئٍ یا رئیس المدار ،  انی  جاھل فی علم اللہ تعالیٰ اعطنی علما نافعا یا مولانا المدار   انی فقیر غریب کلب مضطر انت غفور اشفق علیًَ بحرمتک یا سیدی المدار  یا نورُ یا مُنَوِّرُ یا حافظ خُذْ بیدی یا سلطان المدار  یا ولی یا بدیع   خذ بیدی یا سید المدار یا مُشفق المدار یا مدار شیخونا یا مدار ھَنجَلِیشَا یا مدارَ الاَتْقیِاء اَحیِنِی اَیَا ھِیطَ یا مدارَ السِّلمِ تَغِیطَ  یا مدارَ الجبالِ یا مدار الاٰنھمون یا مدارَ الأِکلیل یا مدارَ البطوشا یا مدار الحق بالمقتدر یا مدار مفرد یا مدار صمد یا مدار وَطَالَ۔ 
 
**تحفۃ الابرار* 
*و مناجات مداریہ*

تحفۃ الابرار مولفہ1616ء
میں ہے درگاہ عالیہ مداریہ میں مناجات اس طرح   پڑھے۔
*مناجات بدرگاہ قطب المدار*
بسم اللہ الرحمٌٰن الرحیم 
يَا اَللّٰهُ 
يااَللّٰهُ يَااَللّٰهُ
 يا مدارُیَا مَدارُ يامُنِىرَ المدَارِ ،يَا مُنِيرَ المنيرِ
 يَا بَرقَلِيطَس،يَابَرفَلِيس يا اٍهياً 
يا اٍشرَاهٓياً، اٰذوني اَصبَاؤثُ اَصْبَاؤثُون يا مَدَارَالذى لا بِدَايةَ لٍذاتهٖ و لا نهايةَ لِصِفَاتِهٖ يا مدارَالدُّنْيَا وَالاٰخِرَةِ يا مدارَ السمٰواتِ وَالْاَرْضِينَ يا مدارَالاَروَاحِ ورُوحِ الَامِينَ ويا مدارَالملٰئكةٍ المقربين ..
يا قطبُ المدار!اِنٌِي عاجزفي كلٌِ شيئ يا رئيسُ المدار إني مَردُودٌخُذْبيدي يا سلطانُ المدار اِنٌِى فقيرٌ في الفَقرِ الظاهرِ اِئتِنِيْ غِنَي الظَاهِرِ وَالبَاطِنِ يا شيخُ المدارُ اِنِّي محجوبٌ في المقاماتِ والمُشاهداتِ إئتني مقاما مشاهدا ويا علماء المداراني جاهل بعلم الله تعالى علٌِمنِي علماًنافعاًبرحمتك يا ارحمَ الراحمين
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر درود مداری پڑھتا ہوا سرہانے کی جالی پرجائے جسے گروہ دیوانگان کی جالی بھی کہتے ہیں اور ہفت اسمائے طبقاتی کے ذریعہ سلام پیش کرے پھر یہ پڑھے السلام علیک یا حضرت رجال الغیب  یا السلام علیک یا ارواح المقدس و یا ارواح المطہر یا عباد الله اعينوني بقوة فانظرونى بنظرة يا رقباء يا نجباء ،يا اخيار،يا سياح يازهاد يا عباد يا ابدال يا اوتاد يا غوث ىا قطب يا قطب القطاب يا صمد يا مدار اعينوني اعينوني اعينوني اغيثوني اغيثوني اغيثوني بحق اياك نعبد واياك نستعين وبحق سيدنا محمد واله ،
*درود مداری*

 درود مدارى یہ ہے:
”اَللّٰهَمَّ صَلِّ عَلىٰ سَيِّدِنَا وَمَولَانَا مُحَمَّدَ نَ النَّبِيِّ الاُمِّيِّ وَآلِهٖ المَدَارِ البَدِيعِ الكَرِيمِ اِبنِ الكَرِيمِ وَبَارِك وَسَلِّم“ 
 قمرالمشائخ وارث ابو الوقار حضور سیدی و مرشدی سيد ذوالفقار علی قمر فنصورى مداری قدس سرہ العزیز و  حضور سیدی  ظھیر المشائخ سید ظہیر المنعم المعروف بہ ببّن میاں طيفورى قدس سرہ النوراور حضور سيدى بابا ولى شكوه ارغونى قدس سره فرماتے تھے کہ اس درود شریف کو اگر معمول میں رکھو گے ،اور کثرت سے پڑھو گے تو ان شاءاللہ تعالىٰ حضور مدار پاک کی زیارت مقدسہ سے مشرف ہوجاوگے۔( ان تىنوں بزرگوں کی بےشمار نوازشات اور عنايتيں اس فقیر مداری ابوالحمّاد حیدری پر رہیں )
اور اگر یاد ہوتو دعائے بشمخ شریف پڑھے ۔ اور دعائےبشمخ شریف یہ ہے:
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ
 اَللّٰهُمَّ يَا بَشْمَخُ بِشْمُخُ ذَالَاهَامُو شِيْطِيْثُونْ .
اَللّٰهُمَّ يَاذانُوْمَلْخُوْثُوْدَمُوْثُوْ دَائِمُوْنْ،
اَللّٰهُمَّ يَاخِيْثُوْمَيْمُونَ اَرْقِشْ دَارَ عِلِّيُوْنْ ،
اَللّٰهُمَّ يَارَحْمِيْثا رَحلِيْلُونَ مَيْتَطِرُوْنْ ،
اَللّٰهُمَّ يَارَخِتيْثُوْاَخْلَاقَ اَخْلَاقُوْنْ،
اَللّٰهُمَّ يَارَحمِيْثُوْ اَرْخِيْمَا اَرْخِيْمُوْنْ،
اَللّٰهُمَّ يَا إِهْيًا اِشْرَاهِيَا اَذوْنِيْ اَصْبَاؤُثُوْاَصْبَاءُثُوْنْ ،
اَللّٰهُمَّ يَا اَرْغِشْ اَرْعِيْ تَطْلِيْثُوْنْ،
اَللّٰهُمَّ يَا اَشْبَرُاِشْبَرُ اَسْمَاءُاَسْمَاءُوْنْ،
اَللّٰهُمَّ يَا مَلِيعُوْثا اَمْلِيْخَا مَلْخَامَلْخُوْنْ،
اَللّٰهُمَّ يَا عَلَّامُ اَرْعِدْاَرْعِيْ يَذْنُوْنْ ،
اَللّٰهُمَّ يَا مَشْمَخُ مَشْمَخِيْثَا مَثَلَامُوْنْ،
اِنَّمَاۤ اَمۡرُہٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَیۡئًا اَنۡ یَّقُوۡلَ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ﴿۸۲﴾فَسُبۡحٰنَ الَّذِیۡ بِیَدِہٖ مَلَکُوۡتُ کُلِّ شَیۡءٍ وَّ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ﴿٪۸۳﴾  انتخاب المشائخ موصوف نے اپنی مجلسی گفتگو میں فرمایا کہ دعائے بشمخ شریف پڑھنے سے سے قبل اس کا حصار ضرور پڑھے ،اس میں اسماء جلالی ہیں اور احتیاط لازمی ہے اس لیئے دعائے حصار ضرور پڑھ لے 
دعائے حصار حضرت انتخاب المشائخ موصوف کےخلیفہ صوفی قاری افتخارعلی بہرائچی نے رسالہ حجۃ النجات میں نقل فرمایا ہے اور سیر المدار کے مصنف نے بھی یہ حصار سیر المدار میں درج کیا ہے 
*حصار دعائے بشمخ شریف*

بِسْمِ اللّہِ  الرَّحْمٰنِ الرحيم
اَللّٰہُمَّ یَاحَافِظَ نُوْحٍ فِی الْمَاءِ وَیُوْسُفَ فِی الْبِئْرِ وَاَیُّوبَ فِی الضَّرِّوَمُوْسٰی فِی الْیَمِّ وَعِيْسٰي فِي الرَّحْمِ وَيُوْسُفَ فِيْ بَطْنِ الْحُوْتِ وَاِبْرَاهِيْمَ فِي النَّارِ وَاِسْمٰعِيْلَ تَحْتَ السِّكِّيْنِ وَمُحَمَّدٍ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَارِ اِحْفَظْنَا مِنَ الْأَعْدَاءِ وَالْحُسّادِ،اَللّٰهُمَّ صَلَّ عَلٰي سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ نِ النَبِيِّ الْاُمِّيِّ وَآلِهٖ الْمَدَارِ الْبَدِيْعِ الْكَرِيْمِ،وَأُفَوِّضُ اَمْرِيْ إلَي اللّٰهِ إنَّ اللّٰهَ بَصِيْرٌ بِالْعِبَادِ وَإِذَا سَالَكَ عَنِّيْ فَإِنِّيْ قَرِيْبٌ أُجِيْبُ دعوة الداع إذا دعان فليستجيبوا إلي واليؤمنوابي ،لعلهم يرشدون عالم الغيب فلا يظهر على غيببه احداإلا من ارتضي من رسول فإنه يسلك من بين يديه ومن خلفه رصدا وماكان لبشر أن يكلمه الله إلا وحيا أو من وراء حجاب أو يرسل رسولا فيوحي بإذنه مايشاء إنه علي حكيم،وكذلك أوحينا اليك روحا من أمرنا ماكنت تدري ماالكتاب ولاالايمان ولكن جعلناه نورا نهدي به من نشاء من عبادنا وانك لتهدي إلي صراط مستقيم صراط الله الذي له ما في السموت وما في الأرض،ألا إلي الله تصير الأمور،حسبي ربي جل الله مافي قلبي غيرالله ،نورمحمد صلى الله،لا إله إلا الله محمد رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم وصلي الله تعالى عليه وعلي خير خلقه سيدنا محمد وآله وأصحابه وأتباعه أجمعين والحمد لله رب العالمي
اس کے بعد اختتامِ دعائے بشمخ پڑھے 

*اختتام دعائے بشمخ **

اَللّٰهُمَّ اِنِّىْ اَسْئَلُكَ يَا اَللّٰهُ يَا اَللّٰهُ يا اَللّٰهُ اَنْ تَحْفِظْنِيْ مِنْ كُلِّ بَلَاءٍ وآفةٍوَعَاهَةٍوَوَجْعٍ وَمِنْ كُلِّ عِلَّةٍ وَبَلِيَّةٍ وَمِنْ كُلِّ فِتنَةٍ وَشِدَّةٍ وَزِلزَالٍ وَزَلْزَلَةٍ وَمِن كل شرالانس والجن ومِنْ كُلِّ شَرِّ السُلْطَانِ الْجَابرِ ومِنْ كُلِّ حاسِدٍ اذا حسد َالٰهى بحقِّ هٰذهٖ الأسماءِ الْعِظَامِ وَبِحَقِّ يا هُو وَبِحقِّ يا من لا الٰه إلا هو احفظني مِنْ جَمىعِ البلاءَ والاٰفاتِ والامراضَ بحق سيدنا محمدٍ سيدِ الانبياءِ وَالمُرسَلِينَ وعلى آلِه وَأَصحابِه أجْمَعِينَ برحمتك يا ارحم الراحمين اَجِبْ يابَرهائيلُ يا برقائيلُ يا بَريوشُ سَامِعاً مُطِيعاًبِحَقِّ هٰذهٖ الأَسماءِ اَنْ تَقْضِىَ حَاجَاتِي يا رَبًّ الْعَالَمِينَ

اس کے بعد مشرقی جالی پرآئے جسے ارغونی جالی اور خادمان جالى بھی کہتےہیں،
وہیں "جنتی دروازہ" بھی ہے،اسی لئے اسے جنتی جالی بھی کہتےہیں،یہ دعا کا خاص مقام ہے،اس جالی پر جاکر کہے اَلسَّلامُ عَلَیکَ یا نجمَ اللهِ،پھر درود مداری 11/گیارہ بارپڑھے اور اپنامدعا عرض کرے اور  حضور مدار پاک کے وسیلے سے اپنے رب تعالیٰ سے خوب دعائیں کرے
 پھر پائینتی جالی پر کھڑے ہوکر یا مَجمَعَ اللّٰهِ یَا عبدَاللهِ زندانَ الصفوف  11/گیارہ مرتبہ پڑھے اس کے بعد ایک مرتبہ درود مداری کبیر پڑھے  اسے درود محمودی بھی کہتے ہیں 

*درود مداری کبیر *   
 یہ درود شریف  حضرت قاضی سید محمود الدین کنتوری سے منقول ہے۔ حصول برکات ، فراخئ رزق، طلب اولاد  اور زیارت قطب المدار  کیلئے  اسےمجرب کہا گیا ہے۔
 خاصان بارگاہ اسے" باب مراد" کے پاس" *دریچہ نور* سے بائیں طرف
  پڑھتے ہیں
 ۔مہتمم درگاہ  عزیزی سید موجود عالم میاں مداری کی اجازت سے بغرض افادہ پیش خدمت ہے
یہ بہت ہی نافع و بابرکت ہے 


*درود مداری کبیر* یہ ہے


اَللّٰھُمَّ یَاحَیُّ یَا قَیُّومُ یَا سُبُّوحُ یَا قَدُّوسُ یَا اَحَدُ یَا صَمَدُ یَا مَنْ لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ وَلَمَ یَکُنْ لَهُ
 کُفُوًا اَحَدٌ، یَانُوْرُ یَامُنَوَّرُ یَاھَادِیُ یَا حَافِظُ یَا بَدِیْعُ یَا رَفِیْعُ یَا رَحْمٰنُ یَا رَحِیْمُ یَااَرْحَمَ الَّراحِمِیْنَ یَا سَرِیْعُ یَاحَنَّانُ یَا مَنَّانُ یَا بَدِیْعَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ یَا ذَاالْجَلَالِ وَالْاِ کْرَامِ یَابَدِیْعَ الْعَجَائِبِ بِالْخَیْرِ یَابَدِیْعُ یَاذَالَفَضْلِ الْع٘ظِیْمُ اَلْلًٰھُّمَّ یَا ھُوَ ھُوَ ھُوَ یَامَنْ ھُوَ ھُوَ یَا مَنْ لَااِلٰهَ اِلّا ھُوَ وَ یَامَنْ  لَااِلٰهَ اِلَّااَنْتَ اَلْلّٰھُمَّ صَلِّ وَ سَلِّمْ وَ بَارِکْ عَلَیٰ خَیْرِ خَلْقِهٖ مَدِینَۃِ الْعِلْمِ وَ نٰوْر‍ِ النُّورِ وَ سُرُورِ السُّرُوْرِ وّرُوْحٍ الرُّوْحِ وَ مفتاح الْخَزَائِنِ الْاِل‍ٰھِیٍّةِ وَمُخْتَار الحَضْرَۃِ الاَ حَدِیَّةِ وَعَرُوسِ الْمَمْلَکَةِ الرَّبَّانِیَةِ صَاحِبِ الْجِسْمٍ الْمُعَنْبَرِ الْمُعَطَّرِ الْمُقَدَّسِ الْمُطَھَّرِ الْمُنَوَّرِ الْمِسْکِیِّ الْنَّبِیِّ الْاِ مِّیِّ سَیِّدِنَا وَ سَنَدِنَا وَ شَیْخِنَا وَ شَفِیعِنَا وَ غَیَاثِنَا وَ مُغِيثِنَاوَ اَوَّلِيٰنَا وَ مَولَانَا الْسُّلْطَانُ سَیِّدِنَا مُحَمَّدَ نِ الْاَ حْمَدِ وَ اَصْحَابِهِ الْاَ خْیَارِ وَ آلِهِ الْا َطْھَارِ لَا سِیِّمَا عَلَیٰ ھٰذَا الْوَلِیِّ الْنُّورِیِّ اَعْجَبِ الزَّمَانِ وَ اَغْرَبِ الْمَکَانِ اَعَزًِالْعِزَّۃِ فِی الْفَوَادِ وَالْاَ کْبَادِ وَاَحَبِّ سَیِّدَتِنَا فَاطِمَةَ الزَّھْرَاءِ وَ سَنَدِنَا عَلَيِّ نِ الْمُرْتَضَیٰ وَ بَرْدِالْحَدَائِقِ الْعِطْرِیَّةِ سَیِّدِنَا الْحَسَنِ وَ الْحُسَینِ رِضْوَانُ اللّٰهِ تَعَالَیٰ عَلَیھِمْ اَجْمَعِینَ جَامِعِ الْاسْرَارِ مَجْمَعٍ الْاَنْوَارِ کَاشِفِ الرُّمُوزِ وَ الْاَسْتَارِ مَظْھَرَ الْعَجَائِبِ مَصْدَرِ الْغَرَائِبِ نَجْمِ شَرِیْعَةِ اللّٰهِ زَیْنِ مِلَّةِ بَیْضَاءِ رَسُولِ اللّٰهِ مَظْھَرِ جَمَالِ اللّٰهِ وَ مَنْبَعِ کَمَالِ اللّٰهِ قُطْبِ الْاِرْشَادِ قُطْبِ النَّظَامِ قُطب الاعظم قُطْبِ الاکبر قُطْبِ
 الْوَحْدَۃِ فَرَدِ الْاَفْرَادِ الَّذِیْ ھُوَوَرَاءِ الْوَرَاءِ اَرْفَعِ الْمَدَارِجِ سَیِّدِنَا و َ شَیْخِنا وَ شَفِیْعِنَا وَ غَیَاثِنَا وَ مُرْشِدِنَا وَ ھَادِیِنَا وَ حَامِیِنَا وَ اٰخِذِ حُجُزِنَا وَاَیْدِیَنَا اَلْاَمَامِ مَوْلَانَا الْسلُّطَانِ اَبِیْ تُرَابِ سَیِّدِیْ اَحْمَدَ بَدِیْعِ الدِّیٰنِ قُطْبِ الْمَدَارِ الْحَسَنِیْ وَ الْحُسَیْنِیْ الْحَلَبِیِّ وَ الْمَکَنْفُورِیِّ مَحبُوبِ الرَّسُوٰلِ الْھَاشِمِیِّ الْاَبْطَحِیِّ الْمَکِّیِّ الْتَّھَامِیِّ اَلْمَدَنِیِّ عَدَدَخَلْقِکَ وَرِدَادَنَفْسِکَ وَ مُرَادَ کَلِمَاتِکَ فِیْ کُلِّ لَمْحَةٍ مَّاوَسَعَهٔ عِلْمُکَ وَفَضْلُکَ وَوَصْلُکَ وَجُودُکَ و َکَرَمُکَ وَ عَدَدَ کُلِّ ذَرَّۃٍ مِائَةَ اَلْفِ اَلْفِ مَرَّۃٍیَا حَیُّ یَا قَیُّومُ بِرَحْمَتِکَ یَااَرْحَمَ الْرَّاحِمِیْنَ

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.