Type Here to Get Search Results !

Dargha Zinda Shah Madar makanpur

Hindustan k Pahele Sufi buzurg Aur awwal daayie islam Hazrat Syed Badiuddin ahamad QutbulMadar Zinda Shah Madar Halabi o shami :

مقام ‏قطب ‏المدار ‏ہی سب ‏بڑا ‏مرتبہ ‏ہے ‏ولایت ‏کا ‏مولانا ‏طاہرالقادری ‏کے ‏فرضی ‏بے ‏بنیاد ‏بیان ‏کا ‏رد

🥀مقام مداریت💫
               ازقلم:جامع معقول ومنقول حضرت العلام مفتی ابوالحماد محمد اسرافیل حیدری المداری۔

🥀قرآن مجید بلاشبه سارے عالم کے لیے هدایت وارشاد کی اصل هے ۔اس کی چھ هزار چھ سوچھیاسٹھ ٦٦٦٦ آیات تین درجوں میں منقسم هیں اس میں بعض آیات محکمات هیں توکچھ مجملات اوربعض ایسی متشابهات هیں جن کے معانی ومطالب الله تعالیٰ اور رسول کریم علیه التحیة والتسلیم کے کے درمیان صیغه راز هیں یه توقرآن حکیم کی بات هے جوصفات باری تعالی سے عبارت هے۔
اولیاء الله ومحبوبان بارگاه الٰه جوذات باری تعالی کے مظاهر ونائبین هیں انهیں بھی تین درجوں میں تقسیم کیا جاسکتا هے۔ان میں بعض وه هیں جن کاعرفان عوام وخواص کوکسی نه کسی طرح هو جاتا هے اوربعض وه هیں جن کی شناخت صرف خواص هی کر پاتے هیں اورکچھ وه بھی هیں جن کی معرفت کما حقه اخص الخواص بھی نهیں کر پاتے هیں مگر جتنا الله جل جلاله چاهتا هے غالباً انهیں سے متعلق یه حدیث قدسی هے:
”اولیاءی تحت قبای لا یعرفهم غیری۔“یعنی میرے اولیاء میری قباء رحمت میں رهتے هیں میرے سواکسی غیر کو ان کی معرفت نهیں هوتی۔
   امام محقق علامه یوسف نبهانی رحمة الله علیه شیخ اکبر محی الدین ابن عربی رحمة الله علیه کے حواله سے نقل فرماتے هیں که طریقه ولایت میں  مردان حق کا مشترکه نام تو”عالم الانفاس“ هے .لیکن ان حضرات کے کئی طبقات هیں اورمختلف احوال سے کئی وه نام دار بھی هیں جن میں یه سب طبقات واحوال بحیثیت مجموعی پائے جاتے هیں ۔اور کئی نفوس قدسیه کو ان طبقات واحوال میں سے کچھ ملتا هے جوالله چاهتا هے۔ان اصحاب احوال ومقامات کے هرطبقه کا ایک خاص لقب هوتا هے۔
   پھرکچھ حضرات وه هیں جو هر دور میں مخصوص عددمیں هوتے هیں اورکچھ وه هیں جن کی تعداد متعین نهیں هوتی۔وه کم وبیش هوتے رهتے هیں.
(جامع کرامات اولیاء ۔اردو ص٢٢٩۔مطبوعه :مکتبه رضویه۔”امام محقق علامه یوسف نبهانی“)
   وه صاحب مراتب مردان حق جنکی تعداد مقرر هیں ان کی کل سینتیس٣٧ قسمیں هیں۔جنمیں سے چند مشهور نام یه هیں
:١:اقطاب۔
٢:ائمه۔
٣: اوتاد
 ٤:ابدال۔
٥:نقباء۔ 
٦: نجباء۔ 
٧:حواری۔ 
٨: رجبی۔
 ٩: ختم ۔
 ١٠: قلب آدم علیه السلام کے مطابق دلوں والے۔
 ١١: قلب نوح علیه السلام کے مطابق دلوں والے۔ 
١٢:ترجمان قلب ابراهیم علیه السلام ۔
١٣:قلب جبرئیل علیه السلام کے نمائندے 
۔١٤: قلب میکائیل علیه السلام کے نمائندے
۔١٥: قلب اسرافیل علیه السلام کانمائنده فرد واحد۔ حضرت بایزید بسطامی رحمة الله تعالی علیه قلب اسرافیل کے مطابق تھے۔
 ١٦: مردان عالم الناس ۔
١٧:رجال الغیب وغیره۔
    وه اولیاء الله جنکے لیے عدد متعین نهیں ان میں سے بعض کے نام یه هیں ۔:
  ١: ملامتیه۔
 ٢:فقراء۔ 
٣: صوفیه
۔ ٤: عباد ۔
٥: معارف الٰهیه ۔
٦: زهاد۔
 ٧: رجال الماء 
۔٨: افراد۔
 ٩: امناء ۔
 ١٠: قراء 
۔١١: احباب ۔
١٢: محدثون ۔
١٣: اخلاء ۔
 ١٤: السمراء 
۔ ١٥: ورثه۔ 
     ان اولیاء کرام میں سے یهاں صرف  اقطاب کی منزلت ومرتبه پر خصوصی بحث کرتے هیں۔
قطب کی جمع اقطاب هے۔
🥀قطب کالغوی معنی:💫
چکی کی کیل جس پر چکی گھومتی هے۔مدارکار.سردارقوم۔ زمین کے محور کا کناره۔ایک ستاره کا نام جس سے قبله کی تعیین کرتے هیں۔

🥀قطب کا اصطلاحی معنی💫
جواصالةً یا نیابةً سب احوال ومقامات کا جامع هو ۔

کبھی لفظ قطب میں صوفیاء کرام وسعت پیدا کردیتے هیں اور ایسے شخص کوبھی قطب کہہ دیتے هیں جس پر مقامات میں سے کوی مقام طاری هوا هو۔یاوه اپنے ابنائے جنس میں انفرادی مقام اپنے دور میں پیدا کرچکا هو ۔اسی بناء پر شهر کے کامل کو اس شهر کا قطب کہہ دیتے هیں اورکسی جماعت کے شیخ ومرشد کو اس جماعت کا قطب کہہ دیتے هیں ۔یه تومجازی معانی تھے ۔
  لیکن مشایخ کی اصطلاح میں جب یه لفظ بغیر اضافت استعمال هو توایسے عظیم انسان پر اس کا اطلاق هوتا هے جوزمانه بھر میں صرف ایک هی هوتا هے۔بعض اسی کو غوث بھی کهتے هیں ۔یه مقربین خدا هوتے هیں اور اپنے زمانه میں گروه اولیاء کے آقا هوتے هیں۔(جامع کرامات اولیاء:ص٢٣٠۔)
   بعض حضرات قطب کی تعریف میں لکھتے هیں کہ قطب وه هے جوعالم میں منظور نظرحق تعالی هو اور وه حضرت اسرافیل علیه السلام کے قلب پر هوتا هے۔(الدرالمنظم فی مناقب غوث الاعظم ص:  ٥٠)۔لطایف اشرفی)۔

حضرت شیخ اکبر فتوحات کے باب تین سوتراسی ٣٨٣؎میں لکھتے هیں که قطب کے سبب سے الله تعالی محفوظ رکھتا هے کل دائره وجود کو عالم کون وفساد سے اور امامین (ائمه)سے عالم غیب وشهادت کو اور اوتاد کی وجه سے جنوب وشمال کو مشرق ومغرب کو اورابدال کی وجه سے ساتوں ولایتوں کو محفوظ رکھتا هے۔
   اور قطب الاقطاب ان سب کو محفوظ رکھتا هے کیونکه وه تووه شخص هے جس پر سارے عالم کا امردائر هے۔۔

🥀قطب علوم اسرار کا عالم هوتا هے💫
   شیخ عبدالوهاب شعرانی ”الیواقیت والجواهر“کے باب دوسو پچیس٢٢٥.میں لکھتے هیں که قطب اپنی قطبیت میں قائم نهیں ره سکتا تاوقتیکه اس کو ان حروف مقطعات کے معانی نه معلوم هوں جواوائل سورقرآنیه میں هوتے هیں۔(الدرالمنظم)۔

شیخ اکبر فتوحات کے باب دوسوستر٢٧٠.میں لکھتے هیں کہ قطب کا نام هرزمانه میں عبدالله اورعبدالجامع هے اور اسکی تعریف یه هے که وه موصوف باوصاف الٰهی هو یعنی بمصداق ”اتصفوا بصفات الله وتخلقوا باخلاق الله “قطب اوصاف الٰهیه سے متصف هوتا هے اور اخلاق سرمدیه کے سانچے میں ڈھل جاتا هے ۔اس طور پر که اس میں تمامی معانی اسمائے حسنیٰ کی جلوه باری هوتی هے۔
  مزید فرماتے هیں: قطب وه مردکامل هے جس نے وه چار دینار حاصل کیئے هوں جس کا هردینار پچیس قیراط کا هو اور ان سے مردان خدا کی کیفیت معلوم کی جاتی هو ۔اور ان چاردینارسے مراد رسل , انبیاء, اولیاء اور مومنین هیں اور ان سب کاوارث قطب هوتا هے۔

🥀ایک قطب کے تصرف کی حد 💫

  سرکار غوث پاک عبدالقادرجیلانی رضی الله تعالی عنه فرماتے هیں که اقطاب کے لیئے سولہ عالم هیں اور هرعالم ان میں سے اتنا بڑا هے جواس عالم کےدنیاء وآخرت دونوں کو محیط هے مگراس امرکو سوائے قطب کے کوئی نهیں جانتا۔(الدرالمنظم ص ٥٨) 
   
 یاد رکھیں اقطاب سے زمانه کبھی خالی نهیں رهتا شیخ اکبر فتوحات میں چودھویں باب میں رقم فرماتے هیں کہ امم گذشته کے تماما اقطاب کاملین حضرت آدم علیه السلام سے لے کر عہد رسالت مآب تک کل پچیس هوئے هیں۔۔

🥀وه اقطاب جوانبیاء علیهم السلام کے قلب پر هیں💫
     
شیخ عبدالرحمن چشتی بحواله فتوحات نقل فرماتے هیں که باره اقطاب ایسے هیں جوبعضے انبیاء علیهم السلام کے قلب پر هیں جن میں پہلا قطب حضرت نوح علیه السلام کے قلب پر هے اس کا ورد سوره یَٰسین شریف هے ۔
دوسرا قطب حضرت ابراهیم علیه السلام کے قلب پر هے اس کا ورد سوره نصر هے۔
تیسرا قطب حضرت عیسیٰ علیه السلام کے قلب پر هے اس کا ورد سوره فتح هے۔
چوتھا قطب حضرت داؤد علیه السلام کے قلب پر هے اس کا وردسوره زلزال هے۔
پانچواں قطب حضرت سلیمان علیه السلام کے قلب پر هے اس کا ورد سوره واقعه هے۔..................
بارهواں قطب حضرت شیث علیه السلام کے قلب پر هے اسکا ورد سوره ملک هے ۔
اور قطب المدار قلب محمدی صلی الله علیه وسلم پرهوتا هے اور بڑے شهر میں هوتا هے اس کا فیض عالم علوی وسفلی پر برابر هوتا هے۔(مرأة الاسرار اردو ص٩٣ .مطبوعه :مکتبه جام نور دهلی۔شیخ عبدالرحمن چشتی)

🥀تمام اقطاب قطب المدار کے محکوم ہوتےہیں 💫

اقطاب جتنے ہوتے ہیں سب کے سب قطب المدار کے محکوم و ماتحت ہوتے ہیں اور وہ بارہ اقطاب بھی جن کا ما سبق میں ذکر ہوا قطب المدار کے محکوم ہوتے ہیں ان بارہ قطبوں میں سے سات ہفت اقلیم کے ہیں  یعنی ہر اقلیم میں ایک قطب  اور پانچ قطب یمن کی ولایت میں رہتے ہیں ان کو قطب ولایت کہتے ہیں 
قطب عالم یعنی قطب المدار کا فیض اقطاب اقالیم پر وارد ہوتا ہے اور اقطاب اقالیم کا فیض اقطاب ولایت پر آتا ہے
 اور اقطاب ولایت کا فیض تمام اولیاء پر جاتا ہے اور یہی طریقہ قیامت تک رہے گا... 
(مراۃ الاسرار اردو... ص 938.  مطبوعہ مکتبہ جام نور دہلی شیخ عبد الرحمٰن چشتی)

🥀قطب عالم ,صاحب  زماں, قطب الاقطاب اور قطب المدار ایک ہی شخص کا نام ہیں 💫

سید السادات سید باسط علی قلندر قدس سرّہ الاطہر فرماتے ہیں قطب الارشاد قطب الاقطاب اور قطب عالم صاحب زماں اور قطب المدار ایک ہی شخص کے نام ہیں جو بالاصالت عرفان کی کنجی ہے
 اور اقطاب کہ در اصل موصل الٰی اللہ ہیں اور وہ نیابت میں قطب الاقطاب کے رہتے ہیں اور اس قطبالاقطاب کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ چاہے انکو اپنی نیابت میں رکھے یا نہ رکھے... (مطالب رشیدی   ص 267.   درالمنظم فی مناقب غوث اعظم) 

حضرت سید جعفر مکّی رحمة اللہ علیہ جو حضرت سیدنا
 نصیر الدین چراغ دهلوی کے مرید و خلیفہ ہیں اپنی کتاب ”بحر المعانی“ میں رقم فرماتے ہیں کہ قطب عالم ہر زمانہ میں ایک ہوتا ہے اور موجودات علوی اور سفلی کا وجود اس کے وجود کے سبب قائم ہوتا ہے اور بوجہ اس کے قطب عالم کےہونےکے سب چیزیں قائم ہوتی ہیں اور بارہ اقطاب اس کے سوا ہوتے ہیں   قطب عالم کو حق تعالٰی سے بے واسطہ فیض پہنچتا ہے اور اسی کو قطب اکبر اور قطب الارشاد اور قطب الاقطاب اور قطب المدار بھی کہتے ہیں 
(مراۃ الاسرار... ص  91 )

”تفسیر روح البیان“( مترجم زیر آیت و الجبال اوتادا.... پ.  عمّ) میں مرقوم ہے کہ ہر زمانہ میں ایک قطب ہوتا ہے  یہ قطب سب سے بڑا ہوتا ہے
 اسے مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے قطب عالم, قطب کبریٰ, قطب الارشاد, قطب المدار, قطب جہاں اور جہانگیر عالم 
عالم علوی اور عالم سفلی میں اسی کا تصرف ہوتا ہے اور سارا عالم اسکے فیض و برکت سے قائم ہوتا ہے
 اگر قطب عالم کا وجود درمیان سے ہٹا دیا جائے تو سارا عالم درہم برہم ہوکر رہے جائے 
قطب عالم براہ راست اللہ تعالٰی سے احکام و فیض حاصل کرتا ہے اور ان فیوض کو اپنے ما تحت اقطاب میں تقسیم کرتا ہے وہ دنیا کے کسی بڑے شہر میں سکونت رکھتا ہے بڑی عمر پاتا ہے
 نور خام مصطفوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی برکات ہر سمت سے حاصل کرتا ہے وہ اپنے ما تحت اقطاب کے تقرّر , تنزّل اور ترقّی کے اختیار کا مالک ہوتا ہے ولی کو معزول کرنا ولایت کو سلب کرنا ولی کو مقرر کرنا اس کے درجات میں ترقی دینا اسی کے فرائض میں ہے.
 وہ ولایت شمس پر فائز ہوتا ہے لیکن اس کے ماتحت اقطاب کو ولایت قمر میں جگہ ملتی ہے قطب عالم اللہ تعالٰی کے اسم رحمٰن کی تجلی کا مظہر ہوتا ہے
 سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم مظہر خاص تجلیّ الولایت ہیں قطب عالم سالک بھی ہوتا ہے اس کا مقام ترقی پزیر ہوتا ہے حتٰی که وہ مقام فردانیت تک پہنچ جاتا ہے و ہی مقام محبوبیت ہے رجال اللہ میں اس قطب عالم کا نام عبداللہ بھی ہے ..( تفسیر روح البیان اردو ص 12 زیر آیت والجبال اوتادا پ عم مترجم مولانا فیض احمد اویسی مطبوعہ رضوی کتاب گھر دہلی). 

قطب المدار پر مخلوق کے احوال روشن رہتے ہیں... چونکہ قطب المدار پر خلق کے احوال گردش کرتے رہتے ہیں اس لئے قطب المدار مخلوق کے احوال کو جانتا ہے اور اس پر خلق کی حالت آشکارا ہوتی ہے۔
 شیخ عبد الرزاق قاشانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: ”القطب فی اصطلاح القوم اکمل الانسان متمکن فی مقام الفردیّۃ تدور علیہ احوال الخلق“
 یعنی صوفیہ کی اصطلاح میں قطب المدار. اس کامل ترین انسان کو کہتے ہیں جو مقام فردیت پر فائز ہو جس پر مخلوق کے احوال دائر ہوں اورگردش کرتے ہوں. ..(رسالہ ابن عابدین الشامی ص 265 )

صاحب فتاویٰ شامیہ امام ابن عابدین الشامی قدس سرہ النورانی نقل فرماتے ہیں.. ”الخلیفۃ الباطن ھو سید اھل زمانہ سمیَ قطباً لجمع جمیع المقامات والاحوال و دورانھا علیہ“.. (رسالہ ابن عابدین الشامی) 
یعنی خلیفئہ باطن جو اپنے زمانہ والوں کا آقا ہوتا ہے اسی کو وہ قطب کہتے ہیں جسے قطب المدار کہا جاتا ہے کیونکہ تمام مقامات و احوال کا وہ جامع ہوتا ہے اور تمام مقامات و مراتب اسی کے گرد دائر ہوتے ہیں اور گھومتے ہیں. 
لطائف اشرفی میں شیخ اکبر کے حوالے سے مرقوم ہے.۔.
” اما القطب وھو الواحد الذی موضع نظر اللہ تعالٰی من العالم فی کل زمان وجمیع اوان وھو علٰی قلب اسرافیل علیہ السلام و قطب الاقطاب باطن نبوته صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فلا یکون إلالورثتہ لا ختصاصہ علیہ السلام بلاکملیَّۃ فلا یکون خاتم الولایۃ و قطب الاقطاب اِلّاعَلٰی باطِن خاتم النبوَّۃ“. 
یعنی قطب وہ ہے جو عالم میں منظور نظر الٰہی ہوتا ہے وہ ہر زمانے میں ہوتا ہے اور وہ حضرت اسرافیل علیہ السلام کے مشرب پر ہوتا ہے اور قطبیت کبریٰ جو قطب الاقطاب ( قطب المدار)  کا مرتبہ ہے اور یہ مرتبہ باطن نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور یہ مرتبئہ کمال صرف وارثان محمد رسول  اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اس لئے کہ آپ ہی اکملیت سے مختص ہیں تو خاتم الولایت اور قطب الاقطاب وہی ہوگا جو باطن خاتم نبوت پر ہو انتہی کلامہ (لطائف اشرفی نقل ازفتوحات فصل 31 باب 198)

عبارت بالا سے واضح ہوا کہ قطب المدار قطبیت کبریٰ کے مقام پر فائز ہوتا ہے
 قطب المدار جسے قطب الاقطاب بھی کہتے ہیں وہی اکملیت کے ساتھ وراثت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کا حامل و متحمل ہوتا ہے اور قطب المدار قطب الاقطاب خاتم النبین صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی وراثت سے منتہائے درجہ ولایت خاتم الولایت کے منصب پر فائز ہوتا ہے
 اور وہی ولایت خاصہ محمدیہ علٰی صاحبھا الصلاۃ التسلیم کا وارث کامل ہوتا ہے 

ولایت خاصہ محمدیہ کا فیضان.
 حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ النورانی اپنے مکتوبات میں ارشاد فرماتے ہیں کہ ولایت خاصہ سے ولایت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہے ولایت محمدیہ علٰی صاحبھا الصلاۃ  والسلام میں فنائے اتم اور بقائے اکمل حاصل ہوتی ہے تو جو نیک بخت اس نعمت عظمیٰ سے مشرف کیا گیا اس کا جسم طاعت کے لئے نرم ہو گیا اور اس کا سینہ اسلام کے لئے کھل گیا اور اس کا نفس مطمئنہ ہو گیا اور اسکا نفس اپنے مولٰی سے راضی یو گیا اور اس کا مولٰی اس سے راضی ہو گیا اور اس کا دل رب تعالٰی کی ذات کے لئے خالص ہو گیا اور اس کی روح پورے طور پر صفات لاھوت کے مکاشفے کے لئے آزاد ہو گئ اور اس کا سِرّ شیون واعتبارات کے ملا حظہ کے ساتھ موصوف ہو گیا اور اس مقام میں تجلیات ذاتیہ برقیہ سے مشرف ہو گیا اس کا لطیفہ خفی رب تعالٰی کے تنزہ اور تقدس کبریا کے سامنے دریائے حیرت میں ڈوب گیا اس کا لطیفہ اخفیٰ اس ذات کے ساتھ بے کیف اور بے مثال طریقہ پر اتصال  پزیر ہوگیا ...”ھنیئاً لاربابِ النعیم نعیمھا“. ارباب نعمت کو نعمتیں مبارک ہوں (مکتوبات جلد اول مکتوب نمبر 135 امام ربانی مجدد الف ثانی)  

🥀کتبہ ابو الحماد  محمد اسرافیل حیدری المداری💫

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.