Type Here to Get Search Results !

Dargha Zinda Shah Madar makanpur

Hindustan k Pahele Sufi buzurg Aur awwal daayie islam Hazrat Syed Badiuddin ahamad QutbulMadar Zinda Shah Madar Halabi o shami :

اور جنازہ بارہ سال تک چلتا رہا حضرت قطب غوری مداری علیہ الرحمہ

*اور جنازہ بارہ سال تک چلتارہا*
از 📝عمدۃ المحققین حضرت علامہ مولانا سید منور علی صاحب جعفری المداری مدظلہ العالی 
استاذ مرکزی ادارہ مکن پور شریف 
.....................................................................
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 
حضرت قطب غوری اولیاء براہ راست حضور مدارپاک کے خلیفہ نہیں ہیں آپکے پیرومرشد قطب الاقطاب حضرت خواجہ سید محمد جمال الدین جانمن جنتی ہیں انکے مرشد حضور مدارپاک رضی اللہ عنھم ہیں 
واقعہ اختصاراً عرض کئے دیتا ہوں 
حضرت قطب غوری افغانستان سے پیر و مرشد کی تلاش میں ہندوستان آئے  ہندوستان میں سید محمود برمکی سے شرف ملاقات حاصل کیا اور بیعت کا ارادہ ظاہر کیا پیر و مرشد نے بیعت لینے میں جلدی نہیں کی اور انہیں اپنی خانقاہ میں قیام کا حکم فرمایا حضرت قطب غوری آپ کی خانقاہ میں رہنے لگے
ایک دن پهر وفور شوق میں بیعت کی درخواست کی
پیر و مرشد نے آج بهی بیعت نہیں لی مزید قیام کا حکم فرمایا وہ پهر خانقاہ میں رہنے سہنے لگے - ایک روز پهر شوق فراواں نے انگڑائی لی اور سوچنے لگے کہ کمال کے یہ پیر ہیں لوگ آتے ہیں ان سے بیعت لیتے ہیں لیکن میں عریضہ پیش کرتا ہوں تو مجهے واپس کر دیتے ہیں خیر آج کچه بهی ہو بصد اصرار و گزارش میں مرید بن کر رہوں گا
سراپا شوق بنے ہوئے پیر و مرشد کی بارگاہ میں پہنچے اور منت و سماجت کے ساته بیعت درخواست پیش کی
پیر و مرشد نے فرمایا تجهے اتنا ہی شوق ہے مرید بننے کا تو میں ایک شرط پر تجهے مرید کروں گا وہ یہ کہ تجهے بیس سال تک تبلیغ اسلام کرنی ہوگی
قطب غوری پر شوق مریدی اتنا طاری تها کہ وہ بیس سال تک تبلیغ اسلام کا عہد لے بیٹهے  پیرو مرشد نے انہیں مرید بنایا اور کچه عرصہ تربیت فرماکر اجازت و خلافت سے نواز کر حکم فرمایا کہ اب بیس سال تبلیغ اسلام کے وعدہ کو پورا کرنے کے لئے رخت سفر باندھو
حضرت قطب غوری پیر و مرشد سے رخصت ہو کر ہندوستان کے مختلف دیار و امصار میں آٹھ سال تک تبلیغ اسلام کرتے رہے آٹھ سال بیتے تو اچانک ان پر انکشاف ہوا کہ اب زندگی کی شمع بجهنے والی ہے اور وصال حقیقی کا وقت آ گیا ہے
یہ منکشف ہوتے ہی آپ کو یاد آیا کہ پیر و مرشد سے وعدہ کیا تھا کہ بیس سال تبلیغ اسلام کروں گا  مگر آٹھ ہی سال میں زندگی ساته چهوڑ رہی ہے اب کیا ہوگا ؟
پهر خیال فرمایا جو مرشد بیس سال کا وعدہ لے سکتے ہیں وہ بیس سال خدمت بهی لے سکتے ہیں
پهر اپنے تمام مریدین کو اکٹها کیا اور اپنے وصال کی خبر دیتے ہوئے فرمایا  میرے انتقال کے بعد مجهے غسل و کفن دینا نماز جنازہ بهی پڑهنا مگر میرا جنازہ دفن مت کرنا بلکہ میرا جنازہ لیکر ہندوستان کے مختلف شہروں صوبوں میں جانا جس جگہ سے جنازہ اٹه جائے وہاں دفن مت کرنا آگے بڑه جانا جس جگہ سے جنازہ اٹهے نہیں وہیں مجهے دفن کرنا
غرض وصال ہوگیا حکم کے مطابق غسل و کفن دیا گیا نماز جنازہ ادا کی گئی اور آخری وصیت پر عمل کرتے ہوئے ستر مریدین حضرت قطب غوری اولیاء دیوان مداری کے خلیفہ حضرت فتح محمد عرف ہٹیلے شاہ بابا مداری کی قیادت میں اپنے پیر و مرشد کا جنازہ لیکر چلے اور بارہ سال تک چلتے رہے کوئ جگہ ایسی نہ ملی کہ جہاں جنازہ رکه دیا ہو اور پهر وہاں سے اٹها نہ ہو.جنازہ جس گلی سے نکلتا تها وہ گلی خوشبو سے معطر ہوجاتی تهی اور اندهیرے میں روشنی پهیل جاتی تهی اور لوگوں کو جب معلوم ہوتا کہ کافی عرصہ پہلے بابا کا انتقال ہوا تھا اور جنازہ چل رہا ہے کوئ منزل نہیں ملتی  تو لوگ متحیر ہوجاتے کہ اتنے ہفتے ....اتنےماہ .....اتنے سال ..
ہوگئے جنازہ نہ سڑا نہ گلا نہ بدبو آئ یہانتک نہ کفن میلاہوا لوگ جوق درجوق  داخل اسلام ہوجاتے تھے
یہانتک کہ قطب غوری کے جنازہ نے بیس لاکھ لوگوں کو کلمہ پڑھوادیا 
اس طرح بارہ سال بیتے تو مریدین کرناٹک کے شہر کولار کی طرف پہنچے شہر کے باہر ایک باغ تها اور اس باغ میں ایک تالاب اور ایک مندر بهی تها  مریدین نے سوچا نماز عصر یہاں ادا کرلی جائے پهر آگے بڑهیں گے  غرض انہوں نے جنازہ مندر کے چبوترے پر رکه دیا اور خود سب لوگ وضو وغیرہ ضروریات سے فراغت حاصل کرنے لگے  اسی اثنا پجاری آگیا اور اس نے ان لوگوں سے یہاں آنے کا حال پوچها تو ان لوگوں نے بتایا بارہ سال پہلے ہمارے پیر و مرشد کا انتقال ہوا ہے انہوں نے وصیت کی تھی کہ ہم لوگ ان کا جنازہ دفن نہ کریں بلکہ مختلف علاقوں میں لیکر جائیں جس جگہ جنازہ رکهنے کے بعد اٹهے نہیں اسی جگہ ہم لوگ انہیں دفن کریں  آج ہم لوگ ادهر آئے پانی دیکه کر ہم لوگوں نے سوچا اپنی ضروریات سے فارغ ہوکر یہاں سے چلے جائیں گے
پجاری بولا تو تم لوگ سورج چهپنے سے پہلے ہی پہلے یہاں سے چلے جانا ورنہ سورج غروب ہونے کے بعد رانی کولارما پوجا کرنے کے لئے آئیں گی وہ تم لوگوں کو سخت سزائیں دیں گی
ان لوگوں نے وعدہ کرلیا کہ چلے جائیں گے مگر نماز عصر سے فارغ ہوکر جب آگے بڑهنے کیلئے جنازہ اٹهانے لگے تو جنازہ اتنا بهاری ہوگیا کہ اٹها نہیں  اسی جد و جہد میں نماز مغرب کا وقت ہوگیا سوچا نماز ادا کرلیں پهر جو ہوگا دیکهیں گے
تبهی پجاری آگیا اور اس نے ان لوگوں کو جو دیکها تو برہم ہوا کہ ہم نے کہا تها کہ چلے جانا مگر تم لوگ نہیں گئے ؟  اب رانی آنے ہی والی ہے اپنا انجام خود دیکهنا کیا ہوگا
بابا ہٹیلے شاہ نے فرمایا پجاری ! ہم ستر لوگ پوری طاقت لگا کر تهک چکے ہیں مگر میرے مرشد کا جنازہ ہلا تک نہیں  ہمیں تو لگتا ہے کہ یہی وہ جگہ ہے جہاں کے لئے انہوں نے وصیت کی تھی کہ جہاں سے جنازہ اٹهے نہیں اسی جگہ دفن کرنا
پجاری بولا اچها آو زور لگاتے ہیں اس مرتبہ پجاری اور تمام مریدین نے طاقت لگائ مگر پهر بهی جنازہ ہلا تک نہیں  تبهی رانی آگئی رانی نے مسلم چہرے دیکهے تو آگ بگولہ ہوگئی اور پوچها کون ہیں یہ لوگ اور یہاں کیوں آئے ؟
پجاری نے پوری تفصیل بیان کی تو رانی نے فوجیوں کو حکم دیا جنازہ اٹها کر پهینک دو رانی کے حکم سے فوجیوں نے جنازہ اٹهانے کی کوششیں کیں لیکن ناکام جنازہ ہلا بهی نہیں رانی نے فیل بان کو حکم دیا کہ ہاتهی میں باندھ کر جنازہ کهینچ دو لوہے کی زنجیروں سے جنازہ کو ہاتهی کے پاوں میں باندھا گیا
ہاتهی دوڑا دیا گیا لوہے کی زنجیریں تو ٹوٹ گئیں مگر حضرت قطب غوری کا جنازہ ہلا تک نہیں
یہ دیکه کر رانی خوفزدہ ہو گئی بولی شاید بابا کو یہ جگہ پسند آ گئی ہے  اچها تو یہ جگہ میں نے بابا کو دے دی رانی ریایہ پجاری اور سارے تماشائی مشرف باسلام ہوگئے اور اسی جگہ آپ کی تدفین عمل میں آئ 
آپ کا آستانہ آج بھی مرجع الخلائق ہے 
جنازہ غوری کا کرتاہے دین کی تبلیغ 
بہت بلند ہے رتبہ مدار والونکا
اپنی یاداشت کے مطابق اتنا لکھ دیا مزید معلومات کیلئے 
قطب غوری اولیاء 
قطب المدار نمبر بمبئ 
ھدیٰ ڈائجسٹ دہلی کا مطالعہ کریں 
وماتوفیقی الاباللہ 
حضرت علامہ مولانا مفتی سید منور علی مداری مداری 

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.