سلسلہ مداریہ کے سوخت کا قصہ محض جعلی ہے

سلسلہُ مداریہ کے سوخت کا قصّہ محض جعلی ھے

علماء ربانیین اولیاء کاملین اور سلف و صالحین کےملفوظات وارشادات ومکتوبات کے مدّ نظر یہ بات سمجھ میں آتی ھے کہ  سلسلہُ مداریہ کے سوخت کا قصّہ قطعی جعل ودجل وفریب ھے                         تمام خانوا دہاےُ تصوف میں یہ سلسلہ جاری وساری ھے صوفیاء کرام ھردور میں اسکی سندیں لکھتے آےُ اھل تصوف متواتراً متعدد طرق سے اس سلسلہُ پاک کی اسانید اپنی کتابوں میں تحریر فرمائیں  خود خاندان قطب المدار کے مشائخ سے اس سلسلے کی سینکڑوں شاخوں کا انشعاب ھوا  بھتّر گروہ تو صرف حضرت سید جمال الدین جان من جنتی قدس سرہ سے نکلے  جنکے فیوض سے اکناف عالم کا ذرہ ذرہ فیضاب ھے مسالک السالکین میں اسپر تفصیلی گفتگو موجود ھے  جس  سلسلہُ عالی قدر کا فیض ھر گاؤں ھر گھر ھر شھر تک پہونچا   اور آج تک  نشانیاں باقی ھیں وہ عظیم القدر سلسلہ کس طرح سے سوخت ھو سکتا ہے  تعجب خیز بات ھے      لفظ ملنگ   اسی "سلسلے کی اصطلاح ھے   فیروز اللغات  میں لکھا ھے کہ ملنگ سلسلہُ مداریہ سے وابستہ ھوتے ہیں   اور مشاھدہ ھے کہ ھندوستان میں شائد بائد ھی کوئی ایسا علاقہ ہوگا جہاں ملنگانِ پاکباز کی ڈیریاں اور ان سے منسوب نشانیاں نہ ھوں       حضرت سیدنا شیخ یٰسین جھونسوی قدس سرہ کی کتاب   مناقب العارفین میں لکھا ھے کہ  "" حضرت شیخ حاجی محمد مداری رحمتہ اللہ علیہ دو واسطوں سے  ملک العارفین حضور سیدنا شاہ بدیع الدین مدار کے خلیفہ تھے "" ملک العارفین صفحہ نمبر 125         حضور سیدنا خوآجہ بابا فرید الدین گنج شکر قدس سرہ کو بھی سلسلہُ مداریہ کی اجازت وخلافت حاصل تھی  الشجرات الرفاعیہ  صفحہ نمبر  306        کتاب سمات الاخیار     صوفیاءبھار      بحر زخّار     ثواقب الآثار      تجلیات انوارفی شیوخ بھار         مکتوبات شیخ حسین نوشتہُ توحید        بحر الحقائق     مقصود الطالبین       زادالسالکین وغیرہ کے مطالعہ سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں وبیاں ھوجاتی ھے کہ سلسلہُ مداریہ کی اجازت وخلافت  ھندوستان میں مروج تمام سلاسل عالیات کے مشائخ کے درمیان ھرزمانہ ھرصدی میں موجود پائی گئی ھے      بقول علامہ ارشدی اور علامہ ازھری کے  وآقعتہً   یہ ایک المیہ ھے کہ  کچھ حضرات مسلسل اپنے ھی سینکڑوں بزرگان دین کی تکذیب وتحمیق وتجہیل پر  بضد ومصر دکھائی دے رھے ھیں        سلسلہُ مداریہ حضرت فاضل بریلوی اور انکے پیران سلسلہ کو بھی حاصل تھا   حضرت والا نے خود اور انکے مشائخ نے بھی اس بات کو تحریر کیا  مگر باوجود اسکے  فتاوی رضویہ جلد 12  کو لیکر  کچھ حضرات درمیان اھلسنت  رہ کر شور وغوغہ مچاتے رہتے ھیں          چونکہ حضرت فاضل بریلوی کافی سادات نثار بزرگ تھے اگر کوئی اپنے آپکو سید بتا دیتا تو بس اسی بتانے کو ہی معتبر تسلیم فرمالیتے  اب  دیکھئے  حضرت سیدنا میر عبد الواحد بلگرامی کی سیادت کا کیا پوچھنا  انکی محرّف کتاب سبع سنابل میں یہ تحریر مل گئی کہ حضرت مدار پاک نے خود اپنے سلسلے کو درھم برھم کر دیا تھا بس آپ نے اس کتاب پر بھروسہ کرکے  لکھدیا کہ سلسلہُ مداریہ  سوخت ومنقطع ھے حضرت نے ایک بڑی شخصییت کے نام  سے منسوب ھونے کی وجہ سے  مزید تحقیق کی زحمت نہیں کی  مگر بعد کے بھت  سے محققین نے اس پر پڑی غبار کو صاف کیا  اور بدلائل قاھرہ اس سلسلہُ عالی قدر کے اجراء کو ثابت فرمایا   راقم الحرف محمد قیصر رضا  نے اس بابت موجودہ مشائخین   میں سے درجنوں مشائخ کرام سے استفسار کیا تو انھوں نے اسے جاری وساری ھی بتایا  میں نے ایک مثبت بات پیش کردی مجھے  اسی میں سلامتی نظرآتی ھے بقیہ کسی پر کوئی جبر نہیں ھر شخص اپنے آپ میں مختار ھے  ھمیں تمام سلاسل کے بزرگوں کی تحریروں سے پیارھے سب کا احترام ضروری ھے کسی ایک عالم کی تحریر کو لیکر بقیہ سینکڑوں بزرگان دین کی تحریروں کو ملیا میٹ کردینا اولیا دوستی کے منافی سمجھتا ھوں

Comments

Popular posts from this blog

Hazrat syed badiuddin Ahamad zinda shah madar

Qutbulmadar histotry