Sisilay madariya Jaari o saari hai سلسلہ مداریہ جاری وساری ہے

: سلسلہ عالیہ مداریہ جاری وساری
------------↑↑↑---------
 ہے اس مقدس سلسلہ کے بانی قطب الاقطاب حضور سیدنا سید بدیع الدین احمد زندہ شاہمدار قدس سرہ ہیں جو ہندوستان کے اول پیران پیر بھی کہلاتے ہیں آپ کی  جائے ولادت ملک شام شہر حلب ہے آپ یکم شوال المکرم( 242)ھجری میں حضرت سیدہ بی بی ہاجرہ عرف فاطمہ ثانیہ رضی اللہ تعالی عنہا کے بطن سے پیدا ہوئے اور حذیفہ شامی مرعشی قدس سرہ سے علوم قرآن وحدیث وفقہ وتفسیر اور دیگر علوم کا حصول فرمایا اور (259)ھجری دارالسلام یعنی بیت المقدس میں حضرت بایزید بسطامی قدس سرہ النورانی کے.دست بابرکت پر.شرف بیعت حاصل کیا اور خلافت سے.بھی سرفراز ہوئے حضرت سلطان العارفین سیدنا سیدبایزید بسطامی قدس سرہ النورانی کے.علاوہ اور بھی کئی مشائخ طریقت سے آپ نے اکتساب فیض فرمایا '
براہ راست حضرت سید ناسید بدیع الدین احمد قطب المدار زندہ شاہمدار کے خلفاء کی تعداد بہت زیادہ ہے (طبقات شاہجہانی)اور علامہ ڈاکٹر محمد عاصم اعظمی کی کتاب تذکرہ مشائخ عظام میں تحریر ہے کہ حضرت زندہ شاہمدار نے کافی طویل عمر پائی اس لئیے آپ کے مریدین اور خلفا کا شمار غیر ممکن ہے"
مستند کتاب بحر ذخار "تاریخ سلاطین شرقیہ وصوفیاء جونپور "وغیرہ میں حضرت مدار پاک کے بہت سارے خلفا کے حالات تحریر ہیں جس ست پتہ چلتا ہے کہ سلسلہ مداریہ انتہائی فیض رساں سلسلہ طریقت ہے اس سلسلہ کے جاری وساری ہونے پر بہت سارے علماء اہلسنت ومشائخ طریقت کی کتابیں شاہد ھیں ,ان میں سے چند کتابوں.کے نام حسب ذیل ہیں "مناقب العارفین"سمات الاخیار"مردان خدا"تواریخ آئینہ تصوف "کنزالسلاسل"گلستان مسعودیہ"رسالہ قطبیہ "مرأ ۃ مسعودی "اخبارالاخیار "مقالات طریقت"نزہتہ الخواطر"تذکرہ مشائخ بنارس"تذکرہ مشائخ قادریہ برکاتیہ رضویہ"حیات اعلحضرت "الاجازت المتینہ"تاریخ مشائخ قادریہ"تذکرہ آبادانیہ "الشجرا ۃ الرفاعیہ"مزکورہ بالاکتابوں کےعلاوہ کئی درجن کتابیں آج بھی موجود ہیں جس سےسلسلہ مداریہ کی ہمہ گیریت اور اجراکا پتہ چلتا ہے لہذا بلا شک وشبہ سلسلہ عالیہ مداریہ جاری وساری ہے.
!اس سلسلہ عالیہ سے اجلہ اولیا ئے کرام وابستہ ہیں بس کسی بھی طرح ایک سنی صحیح العقیدہ مسلمان کواس سلسلہ عالیہ کے بابت سوخت ومنقطع کی بات کہنا مناسب نہیں

سیدظفرمجیب مداری------------------------ولی عہد خانقاہ مداریہ مکنپور شریف
[6:16PM, 04/09/2015] zafarmujeeb9: "فیضان سلسلہ  مداریہ,,
طریقت وتصوف اور ارشاد و سلوک میں سلسلہ مداریہ ایسا آفتاب جہاں تاب ہے جسکی ضیا پاشییوں سے ایشیا ویورپ میں طریقت وتصوف کے تمام سلاسل اور ارشادو سلوک کے تمام مراکزبلاواسطہ یا باالواسطہ کسی نہ کسی طور سے صراحتًہ یاضمنًا وابستہ یاپیوستہ ہیں اور جابجااسکا اظہار بھی کیا ہے.چونکہ سلسلہ مداریہ صرف چار,پانچ یا چھ واسطوں سے رحمت عالم آفتاب کرم حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسل تک پہنچ جاتا ہے اس لیے یہ خیر کثیر,خیرالقرون اورخیرالرسل .رحمت تمام سیدالانام صلی اللہ علیہ.وسلم سے قریب تر سلسلہ ہےاور فیضان محمدیہ اور برکات احمدیہ کا بہت قریب تقسیم کار ہے اس پر مزید انعام.خاص یہ ہے کہ یہ شرف اویسیت سے بھی ممتاز ہے انھیں خصائص اور امتیازات کیوجہ سے طریقت ومعرفت کی سجادگی پر مسند نشین اہل دل اور اہل نظرنے اس سلسہ عالیہ قدسیہ کو حاصل فرماکراپنی کامیابی اور کامرانی کی تکمیل پر مہرلگائ ہے اور اس برکات وحسنات سے اپنے دامن مراد کو پرکیا ہے-ذیل میں ان چند سلاسل اولیاء اللہ کا ذکرکرتےہیں جنہوں نے میری معلومات کے مطابق فیضان مداریت سے استفادہ کرکے اپنے منصب کمال پرمہر تصدیق ثبت کئے ہیں-"

""سلسلہ قادریہ برکاتیہ پرفیضان مداریت,,
سلسہ قادریہ برکاتیہ رضویہ کے بزرگوں نے بالواسطہ براہ راست اور بنوع دیگر کئ کئ طریقوں سے سلسلہ عالیہ قدسیہ بدیعیہ مداریہ کا فیضان حاصل کیاہے اور سلسہ مداریہ کیااجازت وخلافت سے ماذون ممتاز ہوکرفخرو مباہات کا اظہار فرمایا اور اپنے بزرگوں کی سیرت وسوانح کی کتابوں میں اسکا بر ملا اعلان بھی فرمایا ہے-
"حضرت شاہ جمال الاولیاء کڑوی پر فیضان مداریت"""!
[6:16PM, 04/09/2015] zafarmujeeb9: مقام مداریت""
قطب کا لغوی معنی:چکی کی کیل جس پر چکی گھومتی ہے~مدارکار'سردارقوم زمیں کی محور کا کنارہ~ایک ستارہ کا نام جس سے قبلہ کا تعین کرتے ہیں~
          ""قطب کا اصطلاحی معنی"
قطب اسکو کہتے ہیں جوعالم میں منظور نظرحق تعالی ہو ہر زمانہ میں اور وہ بر قلب اسرافیل علیہ السلام ہوتا ہے~(الدرالمنظم ص50لطائف اشرفی)
''اقطاب کی برکت سے عالم محفوظ ہوتا ہے:
حضرت شیخ اکبر فتوحات کےباب تین سو تراسی میں لکھتے ہیں کہ قطب کے سبب سے اللہ تعالی محفوظ رکھتا ہےکل دائرہ وجودکو عالم کون وفساد سے اور امامین کی وجہ سے عالم.غیب وشہادۃ کو اور اوتاد کی وجہ سے جنوب وشمال کو اور مشرق ومغرب کواور ابدال کیوجہ سے اور ولایتوں کو محفوظ رکھتا ہے اور قطب الاقطاب سے ان سب کوکیونکہ وہ تو وہ شخص  ہے جس پر سارے عالن کا امر دائر ہے~
''قطب علوم اسرار.کا عالم ہوتا ہے"
 شیخ عبد الوہاب شعرانی الیواقیت والجواہر کے پینتالسویں باب میں لکھتے ہیں لہ شیخ اکبر فتوحات کے باب دوسو پچپن میں لکھتے ہیں کہ قطب اپنی قطبیت میں قائم نہیں رہ سکتا تاوقتکیہ اسکو ان حروف مقطعات کے معانی معلوم نہ ہوں جو اوائل سورہ قرآنی میں ہوتے ہیں~بحوالہ الدرالمنظم......
"ایک.قطب کے تصرف کی حد کیا ہے"
سر کار غوث پاک عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں  کہ اقطاب کےلیے سولہ عالم ہیں اور ہر عالم ان میں سے اتنا بڑا ہے جو اس عالم کے دنیا و آخرت دونوں کو محیط ہے مگر اسامر کو سوائے قطب کے کوئ نہیں جانتا ~ ;الدرالمنظم فیناقب غوث اعظم ص 58""
تمام اقطاب قطب المدار کے محکوم ہوتے ہیں:
اقطاب جتنے ہوتے ہیں سب قطب المدار کے محکوم وماتحت  ہوتے ہیں اور یہ بارہ اقطاب جن کا ماسبق میں ذکر ہوا وہ قطب المدار کے محکوم ہوتے ہیں  اور اب بارہ قطبوں میں سے سات ہفت اقلیم کے ہیں یعی.ہر اقلیم میں ایک قطب اور پانچ قطب یمن کی ولایت میں رہتے ہیں انکو قطب ولایت کہتے ہیں قطب عالم یعنی قطب مدار کا فیض اقطاب اقالیم پر وارد ہوتا ہےاور اقطاب اقالیم کا فیض تمام اولیاءپرجاتا ہے اور یہی طریقہ قیامت تک رہیگا (مرۃ الاسرار اردو ص 938 شیخ عبدالرحمن چشتی )
[6:18PM, 04/09/2015] zafarmujeeb9: قطب المدار کے تصرفات حیات وممات میں برابر ہیں:

صاحب مطلع العلوم ومجمع الفنون ارشاد فرماتے ہیں کہ

حضرت بدیع الدین قطب المدار کمالاتش درمملکت ہندوستان شہرت دارد وتصرفات آنجناب درحیات وممات برابر است~
قطب المدار کے تصرفات حیات وممات میں برابر ویکساں ہیں(مطلع العلوم ومجمع الفنون )
وہ چار بزرگ ہیں جومثل احیاءکے تصرف کرتے ہیں:
صاحب مرأۃ الاسرار شیخ عبدالرحمن چشتی فرماتے ہیں کہ مرأۃ الاسرار کی تصنیف کے بارہ سال کے بعد 1065ھجری میں زیارت حضرت پیر ودستگیر معنوی خواجہ بزرگ معین الحق والدین چشتی قدس سرہ سے دوچار ہوا حضرت.نے ارشاد فرمایا کہ ہم نے تم.کو چار مرد صاحب ولایت وصاحب تصرف کے درمیان جگہ ہے جو قیام قیامت تک اپنی قبور میں مثل احیاء زندہ کی طرح اپنی قبر میں بیٹھے ہوئے ہیں اور ہمیشہ تمہارے ممدومعاون رہیں گے~

(1)مغرب کی طرف شیخ بدیع الدین شاہمدار رضی اللہ عنہ
(2)مشرق.کی.طرف سید اشرف جہانگیر رضی اللہ عنہ
(3)شمال میں سید سالار مسعود غازی رضی اللہ رضی اللہ عنہ
(4)اور جنوب میں شیخ حسام الدین مانکپوری رضی اللہ عنہ ان چارو ں کے درمیان تم ہمیشہ امن وامان میں رہوگے ~
(بحوالہ سیرت الاشراف جلد اول ص 69مرأۃ الاسرار.ص 1252/)
قطب المدار دنیا کے چارو گوشوں میں گشت کرتاہے:

امام یافعی علیہ الرحمہ الحاوی میں ابن حجر ہیتمی علیہ الرحمہ فتاوی حدیثیہ میں رقم فرماتے ہیں کہ---------
القطب الغوث الفردالجامع جعلہ دائرافی الافاق الاربعۃ فی افق السماء وقد ستر اللہ احوالہ عن الخاصۃ والعامۃ غیرۃ الحق غیرانہ یری عالما کجاھل ابلہ کفطن تارکا اخذاقریبا بعیداسھلا عسراًامنا حذراومکانتہ من الاولیاءکالتقطۃ من الدائرۃاللتی ھی مرکز ھابہ یقع صلاح العالم
(الفتاوی الحدیثیہ..ص 322)
قطب {مدار}جوغوث وفرد کے مقام ومراتب کا جامع ومتحمل  ہوتا ہے اس کواللہ تعالی دنیا کے  چاروں گوشوں میں. گشت کراتا ہے جیسے آسمان کے چاروں.طرف ستارے چکر لگاتے ہیں اور اللہ تعالی اسکی غیرت داری میں اسکے احوال کوخاص وعام سےپوشیدہ رکھتا ہے وہ عالم ہونےکےباوجود ناخواندہ لگتا ہے وہ ذہین ہوتے ہوئے بھی کم فہم معلوم ہوتا ہے دنیا سے بے نیاز ہوکر بھی کچھ دور سا لگتا ہے دردمند ہوتے ہوئے بھی تنگدل جان پڑتا ہے بے خوف ہونے کے باوجود سہما سہما محسوس ہوتا ہے اولیاء اللہ میں اسکا مقام ایسا ہے جیسے دائرہ کے مرکز نقطے کا اسی پرعالم کی  درستگی کا دارومدار ہوتا ہے"
عبارت مزکورہ سے حضرت.سید بدیع الدین احمد زندہ شاہمدار رضی اللہ عنہ کی ایک اجمالی سوانح عمری ہے تاریخ شاہد ہے کہ آپنے آفاق عالم کا گشت فرمای ایشیایورپ امریکہ وافریقہ اور آسٹریلیا گویا کہ پوری دنیا کے اکثر مقامات پر آپکے چلہ جات آپکے خلفاء کےمزارات اور آپکے نام سے منسوب دیگر نشانیاں آپکی عظمتوں کی یادگار ہیں حق تعالی نے اپنی غیرت کی قبا میں آپکے احوال کو اتنے جتن سے مستور فرمادیا ہے .
سید ظفر مجیب مداری

Comments

Popular posts from this blog

Hazrat syed badiuddin Ahamad zinda shah madar

Qutbulmadar histotry