سلسلہ نقشبندیہ پر فیضان مداریت......

" سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ پر فیضان مداریت"
امام ربانی مجدد الف ثانی حضرت شیخ احمد سرہندی قدس اللہ سرہ القوی کہ ذات گرامی ہندوپاک کےمسلمانوں کے لیے محتاج تعارف نہیں ہے پورا عالم اسلام آپکے علم وفضل کا قائل ہے طریقت وتصوف میں آپ اعلی مدارج پر فائض تھے-آپکے مکتوبات آپکی عبقریت پر حجت ہیں-بزرگان دین کے جن سلاسل عالیات میں آپکواجازت وخلافت حاصل تھی  انمیں سلسلہ والیہ مداریہ بھی خصوصیت کے ساتھ مزکور ہے چناچہ (خزینۃ الاصفیا میں ہے کہ,,
حضرت شیخ مجدد اجازت وتلقین درسلاسل مثل ھم سلسلہ رفاعیہ و مداریہ کبرویہ وغیرہ وغیرہ علیحدہ علیحدہ ازشیخ عبدالاحد پدر بزرگوارخوداست حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ کوسلسلہ رفاعیہ ومداریہ کبرویہ وغیرہ میں تلقین فرمانے کی اجازت وخلافت آپکے والد بزرگوارشیخ عبدالاحد قدس سرہ سے ہے""(خزینۃ الاصفیا جلد اول ص609/611)
حضرت غلام علی نقشبندی مجددی دہلوی علیہ الرحمہ حضور مجدد الف ثانی  امام ربانی کے احوال بیعت اور حصول نسبت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ آپ,
اولا!بیعت ا.زوالد ماجدخود درخاندان عالی شان چشتیہ,نمودہ بودند واجازت وخلافت ایں خاندان یافتہ بودند بلکہ ا والد بزرگوار اجازت طریق دیگر مثل سہروردیہ, وکبرویہ, وقادریہ,وشطاریہ,ومداریہ,ہم یافتہ بودہ اند-
ترجمہ;پہلے اپنے خاندان عالیشان چشتیہ,میں اپنے والد بزرگوارسے بیعت تھے اور اس خاندان سے آپکو اجازت وخلافت حاصل تھی بلکہ والد بزرگوار سے دوسرے طرق سہروردیہ'کبرویہ'قادریہ'شطاریہ'اور سلسلہ مداریہ کی بھی اجازت وخلا فت آپکو حاصل تھی (درالمعارف ملفوظات حضرت غلام علی نقشبندی علیہ الرحمہ ص-123-مولف شاہ روف احمد مجددی  مطبوعہ وقف الاخلاص استنبول ترکی)
       ""شجرہ مجددیہ مداریہ""
حضرت امام ربانی کا شجرہ مداریہ اس طرح سے ہے"شیخ احمد فاروقی سرہندیان کو اجازت وخلافت حاصل ہوئ انکے والد بزرگوار شیخ عبدالاحد بن زین العابدین سے انکو اپنے پیرو مرشدشیخ رکن الدین سے انکو اپنے والد ماجد شیخ عبدالقدوس گنگوہی سے انکو اپنے پیرومرشد درویش محمد بن قاسم اودھی سے انکو سید بڈہن بہرائچی سے انکو اپنے والد ماجد سید اجمل بہرائچی سے انکو حضرت قطب الاقطاب سید بدیع الدین قطب المدار قدس اللہ تعالی سرہ سے
(تزکر ۃالمتقین ص 174)

Comments

Popular posts from this blog

Hazrat syed badiuddin Ahamad zinda shah madar

Qutbulmadar histotry