قوت فکر وعمل.،اہل خانقاہ متوجہ ہوں

قوت فکروعمل"یہ ایک مسلم الثبوت حقیقت ہے کہ کسی بھی قوم وقبیلہ یاتحریک وجماعت کی حفاظت واشاعت اسی وقت تک ممکن ہے کہ جب تک ان سے متعلق افراد کی قوت  فکروعمل زندہ جاوید ہے اس بات سے کوئی بھی ہوشمند انسان اختلاف نہیں کرسکتا کہ بغیر فکروعمل کی توانائیوں کے کسی بھی تحریک وجماعت یا قوم وقبیلہ کے تحفظ وتقدس کا تصور محض خبط ہے تاریخ کے اوراق کے علاوہ ہردور کے دانشمندوں کے تجربات ومشاہدات اس بات پر شاہد ہیں کے جن اقوام وقبائل یاادیان ومذاھب کے افراد کی فکریات فرسودہ ہوئیں تو تھوڑے ہی دنوں میں ان سے متعلق افراد کے میعارووقار  وکردار سب کے سب نیست ونابود ہوگئے اور صفحہ تاریخ سے انہیں اس طرح مٹادیا گیا کہ جیسے وہ کبھی تھے ہی نہیں ~علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے اسی بات کو اپنے انداز میں یوں کہا ہے کہ قوت فکرو عمل پہلے فنا ہوتی ہے
پھر کسی قوم شوکت پر زوال آتا ہے
ہمارے اس دعوے کی بہت ساری دلیلوں میں سے ایک اہم دلیل ہماری خانقاہیں اور انکے سجادگان ومتولیان ہیں اب وہ چاہیں خانقاہ مداریہ مکن پور شریف ہو یا خانقاہ چشتیہ اجمیر شریف ,کچھوچھ شریف کی خانقاہ عالیہ ہو یا سیدنا.نظام الدین اولیاء دہلوی کی خانقاہ معلی،خانقاہ نقشبندیہ ہو یاسہروردیہ جھانگیریہ،ابوالعلایہ،پھلواری شریف کی خانقاہ سے لیکر شاہ جی میاں پیلی بھیتی کی خانقاہ تک کے سجادگان ومتولیان کوفی زماننا کتنی مرجعیت وآفاقیت حاصل ہے کسی پر پوشیدہ نہیں ~انکے یہاں سے کتنے فتاوے جاری ہوتے ہیں ~کتنے جلسے اور کانفرنس ان خانقاہوں کے سجادگان کی صدارت وسرپرستی میں ہوتی ہے~یہ حضرات کتنے دینی اداروں کے سرپرست وسربراہ اعلی ہیں ٰ~دور حاضر میں لکھی جانے والی کتنی کتابوں پر انکی تقریظات وتاثرات لکھوائے جاتے ہیں  انہیں انگلیوں پر شمار کیا جاسکتا ہے......جبکہ قیادت وسیادت انکا ورثہ ہے ~تمام دینی درس گاہوں کی سربراہی وسرپرستی کے پہلے مستحق یہی حضرات ہیں ~انکی شمولیت کے بغیر کوئی بھی دینی مذھبی کام ہونا ہی نہیں چاہیئے مگر آج یہ سب ختم ہوچکا ہے~قیادت وسیادت جن خاندانوں میں کبھی نہیں رہی آج انھیں خاندانوں کے افراد دینی مذہب کے سب سے بڑے ٹھیکدار سمجھے جارہے ہیں ہندوپاک کے علاوہ دیگر مملک میں بھی یہی حضرات ہندوستان کے مسلمانوں کے رہبر اعظم کی حیثیت سے تشریف لے جاتے ہیں ان میں بعض توایسے ہیں کہ جنکا شجرہ نسب چوتھی یا پانچویں پشت میں کسی چھتری،یا اہیر،کرمی.وغیرہ سے ملتا ہے اور حیرت ہیکہ جنکے.شجرات میں کوئی امام حسین ہےتو کوئی  امام باقر وامام جعفر صادق وہ بیچارے مزارات کی رکھوالی کررہے ہیں چند علماء کی پرپا کی ہوئی آپا دھاپی کی بدولت یہ اتنے مستور ہوچکے ہیں کہ آنکھیں انھیں دیکھنے کو ترس رہی ہیں~نہ تو جلسوں کے اشتہاروں میں انکے ناموں کی زیارت ہو نہ اسٹیجو پر خود نظر آئیں مسند افتا وتدریس وتقریر ہر جگہ سے بے دخل نظر آرہے ہیں......غور سے دیکھنے پرخانقاہ کی گدی یا ٹوٹی چٹائی ہی نظرآرہی ہیں~اللہ انکا خیر کرے ورنہ یہ بھی خطرے.سے خالی نہیں ہے~شروعات مشہور خانقاہ خلدآباد مہاراشٹر سے ہوچکی ہے~خانقاہوں کے سجادگان کا وجود دور حاضر میں کالعدم کیوں کررہے ~یہ مستورالحالی کی.زندگی کیوں گذار رہے ہیں ~اسے پتا لگاناببے  حد ضروری ہے~ہماری رائے کہ مطابق دورحاضر کے تقاضوں سے اہل خانقاہ کافی حد تک بے نیاز وبے پردہ ہوچکے ہیں ~یہ دور ہے لٹریچر کا یہ دور ہے مدارس کے ذریعہ اپنے مشن کو فروغ دینے کا،یہ دور ہے شوشل نیٹ ورکنگ اور پرینٹ میڈیا کا اور اہل خانقاہ ان سے بے زار سے لگتے ہیں جبکہ دوسرے لوگوں کا انپر پورا تسلط ہوچکا ہے اور یہ سچ ہے کہ انکے بغیر دور حاضر میں کسی قسم کی نشرواشاعت  نہیں ہوسکتی ہے~ہمیں ببے حد حیرت ہوئی جب ہم نے ایک مولوی صاحب کا نام کی تقریبا متعدد ویب سائٹ انٹر نیٹ پر دیکھیں اور اسکے بر خلاف سیدناغریب نواز معین الدین چشتی ،سیدنا بدیع الدین احمد زندہ شاہمدار ،سیدنا مخدوم.اشرف علیہ الرحمہ کی چند ویب سائٹ ہی بنی ہوئی ہیں ماضی قریب کے علماء کرام پر ہزاروں مقالے کتب ورسائل مارکیٹ میں ہیں ~اسکے برخلاف.اہل خانقاہ کے موقئر بزرگوں کی حیات وخدمات پر کتب ورسائل کا زبردست فقدان ہے اور کیوں نہ ہو اگر کوئی قلمکار محنت وشفقت کے ساتھ کوئی کتاب کسی صاحب آستانہ کی حیات وخدمات پر لکھدے تو اہل خانقاہ اسکی تشہیر سے  قطعئی لا تعلق رہتے ہیں~نہ.تو خودہی اسے خریدتے ہیں اور تو اپنے مریدین ومعتقدین کو اسکی ترغیب دلاتے ہیں ~نتیجتا وہ کتابیں الماریوں میں پڑی کی پڑی رہے جاتی ہیں ~نتیجتہ یہ ہوتا ہے کہ وہ مرتب صاحب دوبارہ کچھ لکھنے کو محض حماقت وہلاکت سمجھنے پر مجبور ہوجاتےبہیں جبکہ اسکے برخلاف دوسروں پر کوئی کتاب لکھی جاتی ہے تو ٹرک کی ٹرک کتابیں ختم ہوجاتی ہیں وہ کب چھپیں اور کب ختم ہوئیں پتا نہیں چلتا اہل خانقاہ کو موقعہ ہی نہیں مل پاتا کہ وہ صاحب آستانہ کی حیات وخدمات کو عام کرنے کے لیئے سوچ بھی سکے صرف انکا کام اپنےناموں کی تشہیر کے لیئے استعمال کرلے تے ہیں اسکے آگے کچھ نہیں ~اہل خانقاہ کو چاہیئے کے وہ مدارس کھولیں دارالعلوم قائم کریں اپنے بزرگوں کے ناموں سے لائے بریریاں کتب خانے اور مساجد بنوائیں تاکہ علماء آپ سے بھی قریب ہوں اور جب یہ حضرات قریب ہوں گیں تو آپکا.کام ہوگا ،خانقاہوں کی خدمات.عام ہوگی ~دور حاضر کے تقاضے.پورے ہوں گیں ~انکے بغیر سب کچھ ہونے والا نہیں~کوئی بھی سجادہ نشین بتائے کہ اہلسنت وجماعت کی کسی مسجد پر غریب نواز کے کنبد کی نشانی بنی ہو مخدوم پاک کے مزار کا نقشہ بنا ہو،غوث پاک یا مخدوم کچھو چھہ کا ماننے والا ہوگا ایسا اس لیئے نہیں ہےکہ ان مساجد میں جو ائمہ کرام ہیں انسے آپکا کوئی رابطہ نہیں ہے اور اس سازش کے تحت بھی یہ کام ہورہا ہے کہ مستقبل قریب کی نسلیں یہ سمجھ لیں کہ خانقاہی حضرات کی کوئی خدمت بنام تحفظ سنت قطعئی نہیں ہے اگر ہوتی تو مسجدوں پر بزرگوں کے مزارات کا نقشہ ضرور ہوتا~انکے نام کے کتبے.ضرور لگے ہوتے ~سنیوں کی آبادیوں میں غریب نواز چوک،قطب المدار چوک،مخدوم کچھوچھہ چوک بھی بنے ہوتے تمام سلاسل مقدسہ کے پیران عظام کو ان امور پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ہمیں اس بات سے انکار نہیں کے اہل خانقاہ کو پردہ عدم میں ڈالنے کے لیئے پوراپلان مرتب کیا گیا ہے~منظم افراد نے اسکا بیڑا اٹھایا ،کچھ مولویوں نے اسکی اسکیم تیارکی پھر کہیں جاکرخانقاہوں کے سجادگان کو مستور الحالی عطا ہوئی اس اسکیم کے کام یابی کے دن تقریبا ڈیڑ سوسال سے شروع ہوئے ~اس معرکہ کوسر کرنے میں ماضی قریب کے چند مولویوں اور انکے کچھ مخصوص اہلکاروں نے اہم کردار ادا کیا~اس سے قبل ہندوستان کے تمام مسلمانوں کی دینی مذھبی مسائل کا مرجع یہی خانقاہیں ہوا کرتی تھیں مگر جب رچی ہوئی سازش کے تحت شرک وبدعت نفرت ومنافقت،کے.گولے داغے جانے لگے مسلمانان ہند میں تفریق پیدا کی جانے لگی ،شوق تفریق نے تکفیر کے بھی کڑوے کھونٹ حلق میں اتارے تو اس دور میں اہل خانقاہ ان بازی گروں کا تماشہ دیکھتے رہے اور خود کو ان بکیھڑوں ڈرامائی جھگڑوں سے بچائے رکھا اور اپنے موروثی طریقے پر اشاعت دین فرماتے رہے~ادھر ان ڈرامہ بازوں کے ایجینٹ رسید وروداد کے سہارے عام مسلمانوں کے گھروں تک پہونچ گئے اور انکے.ذہنو میں دھیرے دھیرے یہ بات راسخ کردی کے اسوقت ایک دوسرے کی تکفیرو تسفیق،تذلیل وتوہیں ہی دین کا سب اہم مسئلہ ہے ~ایک دوسرے سے نفرت وبے زاری ہی اسوقت کی سب سے اہم ضرورت ہے اور اہل خانقاہ اس سلسلے میں محض تماشائی ہے~اب دین کی ساری باگ ڈور فلاں مفتی صاحب فلاں شیخ الحدیث صاحب  کے ہاتھوں میں ہے نتیجتا عوام الناس کے دل اہل خانقاہ کی طرف سے پھرنے شروع ہوگئے ~بعض خانقاہی علماء نے بروقت نوٹس لی مگر وہ زیادہ کامیاب اس لئیے نہیں ہوسکے کے دیگر خانقاہوں سے انکی حمایت واعانت نہیں گئی اور انکی آواز نقارہ خانے میں دب کر رہے گئی~ مشہور خانقاہ اجمیر شریف کے ذی رتبہ عالم وفاضل.وعلامہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ.علیہ اس سلسلے میں خصوصیت کے ساتھ قابل.ذکر ہیں اسمیں کوئی دورائے نہیں فریقین کے کچھ علماء نے اختلاف پر نفسیات کا رنگ.چڑھاکر اپنی پیشوائی کا جھنڈا بلند کرنے کے زعم میں دین حنیف کا کا شیرازہ بکھیر نے میں کوئی کور کسر باقی نہیں رکھی اور امت مسلمہ کے سیدھے سادھے لوگوں کو اس دوراہے پر لاکرکھڑا کردیا کہ جہاں پہونچ کر اب وہ اس تذبذب میں پڑے ہیں کہ ہم کسطرف جائیں کس کے ساتھ رہیں حمام میں توسب ننگے نظر آرہے ہیں ~اس احساس کے بعد اب کچھ سنجیدہ طبقے کے افراد کے قدم دھیرے دھیرے پھر خانقاہوں کی بڑھنے لگے ہیں .......اس موقعہ پر اہل خانقاہ کو چاہیئے کہ بڑھکر انھیں سہارا دیں کیونکہ یہی موقع ہے خانقاہوں کی عظمت رفتہ کوواپس لانے کا ......اور بڑی ذمہداری کے ساتھ اہل خانقاہ کے حضور یہ بات بھی عرض کرتا ہوں کہ اگر آپنے اس توجہ نہ دی توپھر وہ دن بھی دور نہیں کہ آپ اپنی گدیوں سے بھی ببے دخل کر دئیے جائیں اور ترس جائیں گے کے کوئی اپنے نام کے ساتھ چشتی ،مداری،نقشبندی،سہروردی،اشرفی،قادری،برکاتی،لکھدےجس طرح اسّی فیصد لوگوں نے قادری لکھنا بند کردیا جبکہ وہ قادری سلسلہ میں ہی بیعت ہیں مگر اصل سلسلے کا پتا نہیں ~المختصر یہ کہ آپکو ہر طرح سے الرٹ ہونے کی ضرورت ہے ~میدان عمل میں آکر کچھ کرگزرنے کی ضرورت ہے~
سید ظفر مجیب مداری مکنپوری

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

Hazrat syed badiuddin Ahamad zinda shah madar

Qutbulmadar histotry