Type Here to Get Search Results !

Dargha Zinda Shah Madar makanpur

Hindustan k Pahele Sufi buzurg Aur awwal daayie islam Hazrat Syed Badiuddin ahamad QutbulMadar Zinda Shah Madar Halabi o shami :

*ولادت وسیادت سرکارسیدنا قطب المــــدار*

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

*ولادت وسیادت سرکارسیدنا قطب المــــدار*

www.qutbulmadar.orgم

(مولانامفتی محبوب رضوی صاحب کےدرس نمبر65 کاتعاقب ومحاسبہ/ اصلاح ومشورہ)

ازقلم

*محمدحبیب الرحمٰن علوی منظری المــداری*
ترجمان
آستانئہ عالیہ قدسیہ مداریہ
بلدالسادات دارالنور مکنپورشریف کانپور
یوپی 7
ـــــــــــــــــــــ        ـــــــــــــ

*کیامدارپاک کاسنہ ولادت سنـ 300ـــہھ ہیے؟*

*کیاسرکارمدارپاک سیدنہیں ہیں؟*

*کیاسرکارمدارپاک منصب صمدیت پرفائزنہیں ہیں؟*

*بعض حضرات سرکارمدارپاک کوسرکارغوث پاک سےافضل مانتےہیں*

*تحقیق یہ ہیےکہ حضرت نےکسی کوخلافت نہیں دی یعنی سلسلئہ مداریہ سوخت ہیے*

تقریباایک ہفتہ قبل شوسل میڈیاکی شاخ واٹشاپ کےایک گروپ بنام "مسلک اعلحضرت زندہ باد" پر ایک عالم مولانامحبوب رضوی صاحب کی تحریرنظروں سےگزری جس کوانہوں نےدرس نمبر65 کی سرخی کےساتھ شائع کیاہیے مولاناکایہ درس مذکورہ پانچ باتوں پرمشتمل ہیے ـــــــــــ
مولاناکی پوری تحریراورتحقیق کامدار
انتصاح عن ذکراہل الصلاح
منبع الانساب
مکتوبات مجدد
سبع سنابل نامی چار کتب ہیں انتصاح اور منبع الانساب پراعتمادکرکےمولانانےسرکارمدارپاک کاسنہ پیدائش ۳۰۰ ھ لکھاہیےاورانہیں کتب پراعتبارکرتےہوئےمولانانےسرکارمــدارپاک کی سیادت کاانکارکرتےہوئے آپ کوحضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کےخاندان سےلکھاہیے
اور
مکتوبات مجددکےحوالہ سےمولانانےآپ کےمقام صمدیت کاقول کرنےوالوں کوجاہل اورمخالف شرع لکھاہیے جب کہ سبع سنابل کےحوالہ سےآنجناب نےسلسلئہ مداریہ کاسوخت ہوناتحریرکیاہیے ـــــــ یہ مختصراشاریہ ہیےمولانامحبوب رضوی صاحب کی تحریر درس نمبر 65 کا ــــــــ
مولانامحبوب صاحب سےان کےدرس نمبر65 کےمتعلق میری کافی طویل گفتگوہوئی جوکہ محفوظ ہیے
دوران گفتگومولانانےایک کتاب *فتاوی شارح بخاری* کابھی متعددمرتبہ حوالہ پیش کیا لہذامیری تحریرفتاوی شارح بخاری سےبھی متلعق ہوگی جوآگےقارئین ملاحظہ فرمائیں گے ـــــــــــــ
ہم سب سےپہلےمولاناکی تحقیق انیق اور ان کےمسلک مختارکاردبلیغ خودانہیں کی مسلمہ اور معتبرومحولہ کتب *انتصاح اورمنبع الانساب* ہی سےکرتےہیں
چنانچہ مولنامحبوب صاحب لکھتےہیں

*آپ کی ولادت 300 /ھ میں.... ہوئی ..... الانتصاح عن ذکراہل الصلاح بحوالہ منبع الانساب 366*

میں یہاں مولانامحبوب رضوی کےنام لینےیالکھنےپرتبصرہ نہیں کروں گاکیونکہ کتاب کانام *انتصاح* ہیےجب کہ مولانانے *الانتصاح* لکھاہیے
خیر
 قارئین کرام توجہ فرمائیں
مولاناموصوف نےسرکارمدارپاک کی تاریخ ولادت کی تحقیق سےمتعلق منبع الانساب کےجس صفحہ کاحوالہ پیش کیاہیےوہ سراسرغلط باطل اور سورج کےاجالےمیں امت مسلمہ کودھوکہ دیاہیے نیز صاحب منبع الانساب پراتہام اورالزام تراشی جیسےعظیم جرم کاارتکاب کیاہیے کیونکہ صاحب منبع الانساب نےاپنی کسی تحریرمیں سرکارمدارپاک رضی اللہ تعالی عنہ کاسنہ ولادت لکھاہی نہیں ہیے
البتہ اتناضرورہیےکہ منبع الانساب کےمحشی حضرت ساحل سہسرامی نےاپنےحاشیہ میں آپ کی تاریخ ولادت سنـ ۲۵۰ ھ یا ۳۰۰ ھ لکھاہیے
اہل علم پریہ بات اچھی طرح روشن ہیےکہ محشی یامترجم کااپناقول وتحریرمصنف یامرتب کاقول وتحریرنہیں ہواکرتے اگرایساہوتاتوکتابوں کےسرورق پر مصنف مترجم اور محشی کےاسماءالگ الگ نہیں لکھےجاتے ـــ یہ توتھی مولانامحبوب صاحب رضوی کےدرس نمبر ۶۵ کی خیانت اورصاحب منبع الانساب پران کاکھلاہوابہتان وافتراء

(مولانامحبوب صاحب نےمجھےخطاب کرتےہوئےمتعددمرتبہ یہ بات کہی ہیےکہ آپ کی تحریرکی روشنی میں صاحب منبع الانساب جاہل اور فتین قرارپائیں گے اب مولاناصاحب خودفیصلہ فرمالیں کہ مذکورہ اوصاف کاحامل کون ہوا)

میں نےمنبع الانساب کےحوالہ سےاتنی طویل گفتگوفقط اس نیت وارادہ سےکی ہیےتاکہ ہرکس وناکس یہ سمجھ لےکہ صاحب منبع الانساب نےسرکارمدارپاک کی تاریخ ولادت لکھی ہی نہیں ہیےالبتہ انہوں نےسنـ 840 ــہھ کوآپ کاسال وفات لکھاہیے ـــ

اب آتےہیں مولانامحبوب صاحب کی تحقیق کےدوسرےماخذجوکہ منبع الانساب کابھی ماخذومرجع ہیےیعنی *انتصاح عن ذکراہل الصلاح* کی طرف صاحب انتصاح نےسرکارمدارپاک کاسنہ ولادت سنـ ۳۰۰/یا سنـ ۲۵۰ ــہھ لکھاہیے
چنانچہ وہ رقم طرازہیں
 *تولدوےدرسنہ ثلثماۃوقیل ماءتین بود*
انتصاح صفحـ ۹۲ــہ سطرنمبــر۱

( یادرہیے
مولانامحبوب صاحب کےبہ قول *قیل* کےذریعہ لکھی گئی ہربات ہرروایت غیرمعتبر محرف اورناقابل اعتبار ہوتی ہیے)

صاحب انتصاح نےسرکارمدارکاذکرجمیل کرتےہوئےاسی صفحہ کی سطرنمبرچارپرلکھاہیے

 *وبخدمت طیفورشامی بایزیدبسطامی قدس سرہ استفادہ پزیرفت*
یعنی سرکارمدارپاک نےسرکاربایزیدبسطامی سےاستفادہ فرمایا

اسی کتاب یعنی انتصاح کےصفحہ نمبر ۹۸/ پرسرکاربایزیدبسطامی کوصاف لفظوں میں سرکارمدارپاک کاپیرلکھاہواہیے

اسی کتاب یعنی انتصاح عن ذکراہل الصلاح میں سرکارسیدنابایزیدبسطامی طیفورشامی رضی اللہ تعالی عنہ کاسنہ وفات 261 ہجری مرقوم ہیے

 اب آگےملاحظہ فرمائیں

*صاحب انتصاح اور منبع الانساب کی تحریرسےولادت سرکارمدارپاک کےمتلعق مولانامحبوب صاحب کی تحقیق کارد اور ہمارےموقف کی تائیدہوتی ہیے*
چنانچہ ہمارایعنی پورےمشرب مداریت کا
*موقف اوربزرگوں کی صراحت اس بات کےیقین پرہیےکہ سرکارمدارپاک رضی اللہ تعالی عنہ کی تاریخ ولادت یکم شوال المکرم سنـ 242 ــہھ ہیے*

صاحب منبع الانساب اور مصنف انتصاح عن ذکراہل الصلاح دونوں لکھتےہیں کہ *آپ محمدطیفورشامی کےمریدہیں*
قارئین کرام حقیقت ملاحظہ فرمائیں صاحب منبع الانساب اور صاحب انتصاح دونوں نےمسلمہ اورمتفقہ طورپر
سیدالطائفہ سرکارسیدنابایزیدبسطامی عرف طیفورشامی رضی اللہ تعالی عنہ  کوسرکارمدارپاک کاپیراورسرکارمدارپاک کوآپ کامریدلکھاہیے
بزرگان دین اولیاءاللہ کی سیرت وسوانح کاادنی مبتدی بھی جانتاہیےکہ سرکاربایزیدبسطامی کالقب طیفورشامی ہیے جن کی تاریخ ولادت بہ اختلاف روایت سنـ ۱۶۱/ یا سنـ ۱۸۱ ــہھ ہیے جب کہ تاریخ وفات سنـ ۲۳۴/ یا سنـ ۲۶۱ ــہھ ہیے
اگرمولانامحبوب صاحب کی اعلی تحقیق کےمطابق سرکارمدارپاک کی تاریخ ولادت سنـ ۳۰۰ ھ تسلیم کرلیں توکیاصاحب منبع الانساب اور صاحب انتصاح کاجھوٹاہوناثابت نہیں آئےگا؟
کیاانتصاح اور منبع الانساب لائق اعتبارکتب رہ جائیں گی؟

نہیں رہ جائیں گی کیونکہ صاحب انتصاح اور منبع الانساب نےسرکارطیفورشامی کومدارپاک کاپیرلکھاہیے
جب سرکاربایزیدبسطامی عرف طیفورشامی کاانتقال سنـ 261 ــھ میں ہوچکاتھاتوسنـ ۳۰۰ ھ میں پیداہونےوالےسرکارمدارپاک ان سےمریدکس طرح ہوگئے؟

اب یاتومولانامحبوب کی تحقیق کودرست مانیں یا ان کےمعتبراورمعتمدمورخ وسیرت نگارصاحب انتصاح اور صاحب منبع الانساب کودرست مانیں؟.ـــــــ

 الغرض انتصاح اور منبع الانساب نامی کتب کےحوالہ جات سے مولانامحبوب صاحب نےجوبات لکھی اس کوتسلیم کرلینےکامطلب خودان کتابوں کےمصنفین کی تجہیل کےمترادف ہوگا
اور
انہیں کتب یعنی انتصاح اور منبع الانساب کےمندرجات سے مولانامحبوب صاحب کی تحقیق بھی باطل ثابت ہوئی ـــــــ اوریہ بھی واضح ہوگیاکہ ان حضرات نےمذکورہ سنوات ولادت کوفقط روایتالکھاہیےجب ان کاموقف وہ نہیں اگران کاوہی سنہ ۳۰۰ یا سنہ ۲۵۰/ والاموقف ہوتاتوسرکاربایزیدبسطامی کوسرکارمدارپاک کاپیرومرشدنہ لکھتے ــــــــــ

اب آتےہیں مولانامحبوب صاحب کی دوسری تحقیق کی طرف یعنی
 *سرکارمدارپاک سیدنہیں تھے*

مولانامحبوب صاحب نےاپنےدرس نمبر۶۵ میں سرکارمدارپاک رضی اللہ تعالی عنہ کی سیادت کاانکارکرتےہوئےلکھتےہیں

 *تحقیق یہ ہیےکہ آپ سیدنہیں باالکہ صحابی رسول حضرت ابوھریرہ کی نسل سےتھے*

اس تحقیق کےبعدمولانانےسرکارمدارپاک کاشجرہ لکھاہیےجوکہ حضرت مدارپاک سےشروع ہوکرحضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ پرختم ہوجاتاہیے

قارئین کرام وطالبان حق!

اب فقیرمداری مولاناکی اس تحقیق یعنی اعتقادِانکارسیادت اورشجرۂ نسب کی طرف متوجہ ہوتاہیے فقیرکی تحریرانتہائی دیانت داری اورخالص مؤمنانہ قلب سےملاحظہ فرمائیں ـــ

صاحب انتصاح سرکارمدارپاک کےنسب مبارک سےمتعلق سب سےپہلاقول نقل کرتےہوئےتحریرفرماتےہیں

 *بدانکہ نسب آنحضرت بعضےمی گویندکہ آنحضرت سیدبود*
انتصاح صفحہ نمبر۹۱

اب آتےہیں مولانامحبوب رضوی کی اعلی تحقیق بابت شجرۂ نسب سرکارمدارپاک کی طرف ـــ مولانانےاپنےدرس نمبر ۶۵ میں سرکارمدارپاک کاجوشجرہ نقل کیاہیے اس شجرہ میں سرکارمدارپاک اور حضرت ابوھریرہ کےدرمیان تیرہ (۱۳) نام ہیں جب کہ انتصاح عن ذکراہل الصلاح میں سرکارمدارپاک کاجوشجرہ نقل کیاگیاہیےاس شجرہ میں سرکارمدارپاک اور حضرت ابوھریرہ کےدرمیان اٹھارہ (۱۸)  نام ہیں

*قارئین کرام خداراانصاف کریں مولانامحبوب کاتحریرکردہ شجرہ درست ہیےیامولاناکی معتبراورمعتمدکتاب انتصاح میں لکھاہواشجرہ صحیح ہیے؟*
اگرمولانامحبوب یہ کہیں کہ میں نےمنبع الانساب کےحوالہ سےلکھاہیےتوپھراس بات کابھی جواب دیتےچلیں کہ *منبع الانساب نےمذکورہ شجرہ کہاں سےلکھا جواب یقیناانتصاح کےحوالہ کاہوگا توپھرمحقق رضوی صاحب یہ ضروربتادیں کہ صاحب منبع الانساب نےاصل مرجع سےخیانت کیوں کی؟*
 اور کیایہی آپ کی اعلی تحقیق اورمنارہائےPHD ہیں؟

(انہیں پراعتمادکلی فرماکرآپ نےاس عظیم اورتقدس مآب ذات پاک کی سیادت کاانکارکردیاجس ذات قدسی صفات کےقدوم نازکی برکتوں سےآپ جیسےبےشمارعلماءاورمفتیان دین کےآباءواجدادکودولت ایمان ملی؟ )

خیــــر
*ماہرین انساب اور علمائےرجال کےنزدیک کیاایساشجرہ معتبراورمتحقق ہوسکتاہیےجس شجرہ سےپانچ پانچ نام غائب ہوں؟*

قارئین کرام دیکھ رہیےہیں آپ کس قدرجھول اورگول مال ہیے؟

مولانامحبوب صاحب فقط زورزبان ہی سب کچھ نہیں ہیے تحقیق چرب زبانی اور زوربیانی میں بعدبین المشرقین کافاصلہ ہیے

قارئین کرام
*ایک نظرحقائق شجرات پربھی کرلیں*
میرےآقاسرکارغوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کاسنہ ولادت 470/ یا 471 ہجری ہیے لیکن آپ اورسرکارمولائےکائنات علیہ السلام کےدرمیان فقط گیارہ یابارہ نام ہیں
قابل توجہ بات ہیےکہ 470 ھ میں پیداہونےوالےبزرگ کاشجرہ گیارہ یا بارہ واسطوں سےآقائےکریم علیہ السلام تک پہونچ جاتاہیےلیکن ان سےایک سوستریادوسوبیس سال قبل یعنی سنہ ۳۰۰/ یا سنـ ۲۵۰ ھ میں پیداہونےوالےانسان کاشجرہ اپنےاٹھارہ واسطوں کےبعدپہونچتاہیے؟

(جناب مولانامحبوب صاحب قبلہ عرب کی تہذیب اہل عرب کی عادت کےخلاف اگر سولہ یاسترہ یااٹھارہ سال کی عمرمیں ہی اپنےنقل کردہ اورمتحقق شجرہ کےافرادکوآپ باپ بنادیں پھربھی آپ کامنشاءپورانہ ہوسکےگا کلکولیٹ کرکےدیکھ لیں)

ناظرین گرامی
یہ ہیےمولانامحبوب صاحب رضوی کےمتحقق اورمحقق شجرہ کی حیثیت
صاحب انتصاح پرمولانامحبوب صاحب نےالزام فاحش عائدکیاکہ *صاحب انتصاح نےآپ کوسیدنہیں ماناہیے*

 مولاناکےاس الزام کاردخودصاحب انتصاح سےملاحظہ کرلیں
صاحب انتصاح نےاپنی کتاب کےصفحہ ۹۱ سے صفحہ ۹۸ تک سرکارمدارپاک کی سیرت وحالات سےمتعلق مختلف اقوال جمع کئےہیں لیکن کتاب کےصفحہ نمبر ۹۸/ پرجہاں آپ نےسرکارمدارپاک کاذکرجمیل ختم کیاہیے
اختتامیہ کی آخری سطورآپ اس طرح لکھتےہیں *حضرت طیفورشامی بایزیدبسطامی کہ پیرحضرت سیدبدیع الدین مدارقدس سرہ اند*

انتصاح عن ذکراہل الصلاح
صفحہ ۹۸
صاحب انتصاح نےتمام تراقوال جمع کرنےکےبعداپنےقلم سےسرکارمدارپاک کو *سید* لکھ کریہ واضح کردیاکہ گزشتہ صفحات پرمیں نے نسب پاک کےمتعلق مختلف روایات ضرورلکھی ہیں لیکن میں سرکارمدارپاک کوسیدآل رسول ہی یقین کرتاہوں اور مجھ کوسرکار مدارپاک کی سیادت کامنکربتانےوالےخاطی اورمجھ پرمفتری ہیں ـــ مولنامحبوب صاحب
اپنی تحقیق کی روشنی میں جواب دیں کہ صاحب انتصاح اگرسرکارمدارپاک کی سیادت کےمنکرتھےتوانہوں نے *سیدبدیع الدین مدار* کیوں لکھا؟؟؟
کسی بزرگ کےحسب ونسب کےاختلاف کاذکرالگ شئی ہیے لیکن اس ذکراختلاف کوجامع یامرتب کےاعتقادسےجوڑدینااس کاموقف قراردےدینایہ دجل وخیانت ہیے
امام الاولیاءغوث الاغواث سرکارسیدناغوث اعظم بڑےپیردستگیررضی اللہ تعالی عنہ کوبھی لوگوں نےنہیں چھوڑااہل تشیع نےآپ کےنسب میں بھی اختلاف کیاہیے
ملاحظہ فرمالیں
فتاوی رضویہ جلددوازدھم صفحہ نمبر ۲۹۹
 توکیاہم اس اختلاف کےسبب سرکارغوثیت پناہ کےنسب شریف میں مشکوک ہوجائیں؟؟؟ اسی طرح عطائےرسول سلطان الہندسرکارغریب نوازرضی اللہ تعالی عنہ کےشجرہ کےمتعلق بھی مختلف اقوال ملتےہیں
مراۃالاسرار
شیخ عبدالرحمٰن چشتی علیہ الرحمہ
اب اس اختلاف کےسبب کیاہم سرکاراجمیرکےشجرۂ مبارک سےبدظن ہوجائیں؟ ؟؟

 واللہ واللہ ثم واللہ یہ ہماری بدبختی اور بدنصیبی ہوگی ــــ

*الغرض*
انتصاح میں مذکورسرکارمدارپاک کاشجرۂ جدیہ نسبیہ قطعی اختراعی اور مصنوعی ہیےجس کااصل احوال سےدورکابھی کوئی واسطہ نہیں ــــــــــــــــــ

اب آتےہیں کچھ منقولات کی طرف
ہمارےسلسلئہ عالیہ قدسیہ مداریہ کےمشائخ اصحاب سیرت اورمؤرخینِ سلسلہ نیزسادات مکنپورشریف نےنسلابعدنسل قرنابعدقرن علی التواتر سرکارسیدنامدارپاک رضی اللہ تعالی عنہ کاشجرۂ جدیہ حسنیہ و حسینیہ تحریرفرمایاہیےجوکہ *الناس امناءعلی انسابھم* کےمطابق کافی اوروافی ہیے

قارئین کرام
مولانامحبوب صاحب یاان سےقبل مفتی شریف الحق امجدی صاحب مرحوم اس مسئلہ کےمتعلق شدیدطورپرتزلزل/ سھو/جہل یاتعصب کاشکارہوئے
اعلحضرت کےمسلک سےمنحرف ہوئے
اعلحضرت کےمزاج پراپنےمزاج کوترجیح دیا
*اعلحضرت سےسوال کیاگیاکہ سادات سےان کی سیادت کی سندمانگناکیساہیے؟ اگرکوئی سیداپنی سندِسیادت نہ پیش کرسکےتواس کےسبب اسکی توہین یاتحقیرکرناکیساہیے؟*
اس قسم کےایک طویل استفتاءکاجواب لکھتےہوئےاعلحضرت تحریرفرماتےہیں
*اوریہ بھی فقیربارہافتوی دےچکاہیےکہ کسی سیدکوسیدسمجھنےاوراس کی تعظیم کرنےکےلئےہمیں اپنےذاتی علم سےاسےسیدجانناضروری نہیں جولوگ سیدکہلائےجاتےہیں ہم ان کی تعظیم کریں گےہمیں تحقیقات کی حاجت نہیں نہ سیادت کی سندمانگنےکاہم کوحکم دیاگیاہیےاورخواہی نخواہی سنددکھانےپرمجبورکرنااورنہ دکھائیں تو براکہنامطعون کرناہرگزجائزنہیں الناس امناءعلی انسابھم*
جوسیدنہ ہو لیکن سیدبن جائےاپنےکوسیدکہےاورکہلوائ اس کےمتعلق اعلحضرت لکھتےہیں
*ہاں جس کی نسبت ہمیں خوب تحقیق معلوم ہوکہ یہ سیدنہیں اوروہ سیدبنےاس کی ہم تعظیم نہ کریں گےنہ اسےسیدکہیں گےاورمناسب ہوگاکہ ناواقفوں کواس کےفریب سےمطلع کردیاجائے*
فتاوی رضویہ جلدنمبر۱۲ صفحہ نمبر۱۲۵
قارئین باوقار
فقیرمداری کےپیش کردہ دونوں پیراگراف کوکئی مرتبہ پڑھیں خوب پڑھیں ــــــ کیاسرکارمدارپاک کی سیادت مشہورومشتہرنہیں؟  ہیےیقیناہیےبلاشبہہ ہیےمولانامحبوب صاحب نے علامہ عمران مظہربرکاتی کےایک سوال کےجواب میں خوداپنی زبانی کہاہیےکہ میں بھی ان کوسیدہی سنتااورجانتارہا ــــــ مولانامحبوب صاحب کیااللہ کےاس عظیم ولی کےمتعلق صدیوں پرمحیط سیدہونےکی شہرت کافی نہیں تھی؟
کیاآپ اورمفتی امجدی صاحب مرحوم کی تحقیق اعلحضرت کےاس فتوی کاردنہیں کررہی ہیے؟
کیاآپ اورمفتی صاحب مرحوم کااعتقاداعلحضرت کےاس مسلک کےمخالف نہیں ہوا؟
آپ اورمفتی صاحب مرحوم کی تحقیق کےتاروپوداچھی طرح سامنےآچکےہیں کیاآپ دونوں حضرات کی انتصاح اور منبع الانساب کےحوالہ سےلکھی گئی تحقیق *خوب تحقیق* کہی جاسکتی ہیے؟
دورنگی چھوڑدےیک رنگ ہوجا

( ہم اسی لئے باربارکہتےہیں آج آنکھ بندکرکےصرف اعلحضرت کہاجارہاہیےاعلحضرت کوپڑھایاسمجھانہیں جارہاہیےاوراگرکوئی کچھ پڑھتابھی ہیےتواصل ایک طرف رکھ کراپنی راگ ہی کومقدم کردیتاہیے الاماشاءاللہ) مولنامحبوب صاحب رضوی کی پیش کردہ تحقیق کی قرارواقعی سامنےآجانےکےبعدان کاموقف خودبہ خودباطل ثابت ہوجاتاہیے
*وہ شاخ ہی نہ رہی جس پہ آشیانہ تھا*
مزیدکسی دلیل کی حاجت وضرورت باقی نہیں رہتی تاہم

تشفئ خاطراحباب کےلئےکچھ بزرگوں کی تحریرات لکھ دیتاہوں تاکہ مولانامحبوب صاحب جیسےمحققین اپنی تحقیق پرنظرثانی کرلیں اوربعدوضوح حق رجوع کرکےاس بارگاہ قدس کےانعامات کےمستحق بن سکیں
وماتوفیقی الابااللہ العلی العظیم

نمبر۱/ مجددسلسلئہ اشرفیہ سرکاراعلی حضرت علی حسین اشرفی میاں رضی اللہ تعالی عنہ  جن کےمتعلق اعلحضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ نےلکھا
*اشرفی ائےرخت آئینئہ حسن خوباں*
*ائےنظرکردہ وپردۂ سہ محبوباں*
وہی سرکاراشرفی میاں اپنی کتاب صحائف اشرفی میں اپناسلسلئہ مداریہ اشرفیہ اس طرح نقل فرماتےہیں
*دوسراسلسلہ حضرت سیدبدیع الدین مدارقدس سرہ کوحضرت شیخ مکی قدس سرہ سے.......الخ*
 پھراسی صفحہ پرآگےتحریرفرماتےہیں
*حضرت سیدبدیع الدین مدارقدس سرہ نےحضرت محبوب یزدانی قدس سرہ کویہ دونوں سلسلہ عطاءکرکےاپناخرقئہ محبت پہنایا*
صحائف اشرفی حصہ دوم صفحہ نمبر 47

قارئین کرام توجہ فرمائیں
یہی اعلحضرت اشرفی میاں ہیں جن کےمتعلق مشہورروایت ہیےکہ جب اعلحضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کاانتقال ہواتواس وقت حضوراشرفی میاں وضوفرمارہیےتھے کہ اچانک بےچین ہوگئےلوگوں نےوجہ اضطراب پوچھاتوفرمایاکہ اپنےوقت کاقطب دنیاءسےچلاگیااس کاجنازہ دیکھ رہاہوں ـــــ اس واقعہ کودیکھیں اور ان کی کتاب صحائف اشرفی کےصفحہ کودیکھیں ــــ

*مفتی شریف الحق امجدی صاحب مرحوم نےبھی مدارپاک کوسیدلکھاہیے*

نمبر ۲ / جس فتاوی شارح بخاری کےحوالہ کی روشنی میں مولانامحبوب رضوی صاحب نےمتعددمرتبہ بزورحلق سیادتِ سیدنامدارالعلمین رضی اللہ تعالی عنہ کاانکار کیااسی فتاوی شارح بخاری میں سرکارمدارپاک کوسیدلکھاگیاہیے
چنانچہ مفتی شریف الحق امجدی مرحوم لکھتےہیں *شریعت پرطریقت پرخودحضرت سیدشاہ قطب مداررحمۃاللہ علیہ پر.....الخ*
فتاوی شارح بخاری جلددوم صفحہ ۱۹۲
ناظرین کرام
آپ دیکھ رہیےہیں کہ مولانامحبوب رضوی صاحب نےجس فتاوی شارح بخاری کی ثقاہت پرسارازورباندھااسی فتاوی شارح بخاری میں سرکارمدارپاک کو *سید* لکھاگیاہیے
ممکن ہیےمولانامحبوب اوران جیسےدوسرےلوگ یہ کہیں کہ یہ کتابت کی خطاءہیےکمپیوٹرکی غلطی ہیےتواس طریقۂ تلبیس اورشبہہ کوبھی سمجھ لیں ایسانہیں ہیےباالکہ واقعتامفتی صاحب مرحوم نےاپنےفتوی میں سیدہی لکھاہیے

(ہم اس سےانکارنہیں کرتےکہ مفتی صاحب مرحوم نےاپنےایک فتوی میں سرکارمدارپاک کی سیادت کاانکارکیاہیےانہوں نےمدارپاک کویہودی النسل تک ثابت کرنےکی مکمل کوشش کی ہیے (العیاذبااللہ) جیساکہ ان کےفتاوی شارح بخاری کےصفحہ 247/48 دیکھاجاسکتاہیے)

ایک طرف تومفتی صاحب مرحوم نےسرکارمدارپاک کی سیادت کاانکارکیااوردوسری طرف اپنےہی فتوی میں سرکارمدارپاک کو *سید* بھی لکھا ــــــ آخرایساکیوں ہوا تواس کیوں کاجواب بھی ملاحظہ فرمالیں

امرواقعہ یہ ہیے
 *تاڑنےوالےقیامت کی نظررکھتےہیں*
مفتی شریف الحق صاحب مرحوم نےاپنےجس فتوی میں سرکارمدارپاک کو *سید* لکھاہیےاس فتوی کو سنـ ۱۳۸۱ــہھ میں تحریرکیاہیے
اس قول واقرارسیادت والےفتوی کومفتی امجدی صاحب مرحوم نےمنظراسلام بریلی شریف کی ملازمت کےایام میں لکھاہیے اس فتوی پرحضورمفتئ اعظم ہندکی تصدیق بھی موجودہیےاب یہ بھی ثابت ہوگیاکہ حضورمفتئ اعظم ہندنےبھی سرکارمدارپاک کو *سید* ہی ماناہیےاگرایسانہ ہوتاتوآپ اس کی تصدیق نہ فرماتے ـــــــــ
لیکن جس فتوی میں مفتی امجدی صاحب مرحوم نےسیادتِ مدارپاک کاانکارکیاہیےوہ فتوی سنـ 1409ــــہھ کاہیے یہ فتوی انہوں نےجامعہ اشرفیہ منارکپور کی ملازمت کےایام میں لکھاہیے
یعنی مفتی امجدی صاحب مرحوم کےدونوں فتاوی کےدرمیان تقریبا۲۸/ سال کافاصلہ ہیے
بریلی شریف میں لکھاگیافتوی سیدبتارہاہیےاوراس پرسرکارمفتئ اعظم ہندکی تصدیق بھی سیدبتارہی ہیےلیکن مبارکپورمیں لکھاگیافتوی یہودی النسل بتارہاہیے اب فیصلہ قارئین پرچھوڑتاہوں کہ وہ بریلی شریف میں لکھےگئےفتوی کومانتےہیں یامبارکپوروالےفتوی کوقبول کرتےہیں
البتہ مولانامحبوب رضوی صاحب اس بات کاجواب ضروردیں کہ ایک ہی ذات کےمتعلق ایک ہی امرومسئلہ میں دوقسم کااعتقادرکھنےوالےمفتی امجدی صاحب مرحوم قابل استنادرہ گئےیانہیں؟ شرعی مزاجِ استنادکونظرمیں رکھ کرجواب لکھیں گے ـــــــ
ان کےعلاوہ

نمبر ۳/
صاحب مراۃالانساب نےآپ کاشجرۂ جدیہ حسنیہ حسینیہ لکھاہیے
مراۃالانساب صفحہ ۱۵۶/۵۷

نمبر ۴/
خزینۃالاصفیاءمیں آپ کاشجرۂ حسنیہ حسینیہ لکھاہواہیے
جلدنمبر ۳ صفحہ ۳۱۱

نمبر ۵/
سفینۃالاولیاءمیں آپ کوخاندان سادات سےلکھاہیے
صفحہ ۲۳۶

نمبر۶/
بحرزخارمیں سرکارمدارپاک کاشجرۂ سیادت لکھاہیے
بحرزخارجلدنمبر۳ صفحہ ۹۷۷

نمبر۷/
اعلحضرت کےمنجھلےبھائی استاذزمن مولاناحسن رضابریلوی مرحوم نےاپنےنعتیہ دیوان ذوق نعت میں سرکارمدارپاک کو *کریم ابن کریم* تحریرفرمایاہیے
یہ بات اہل علم سےمخفی نہیں کہ یہ لفظ سادات کرام اہلبیت عظام کےمتعلق ہی لکھااوربولاجاتاہیے
ذوق نعت صفحہ ۱۰۶

نمبر۸/
پاسبان ملت علامہ مشتاق احمدنظامی مرحوم رقمطرازہیں
*چنانچہ ایک بارسیدبدیع الدین زندہ شاہ مداررحمۃاللہ علیہ جونپورتشریف لائے....الخ*
خطبات نظامی صفحہ ۲۹۸

یہ تومشتےنمونہ ازخروارےوالی بات ہیےورنہ کتب تصوف اورطریقت میں بےشمارمقامات پرسرکارمدارپاک کوخاندان سادات سےلکھاگیاہیےاورآپ کےشجرات جدیہ حسنیہ حسینیہ نقل کئےگئےہیں.
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
یہ تورہامولانامحبوب صاحب قبلہ کی پہلی دوتحقیقات کامحاسبہ اور ان کی اصلاح باقی دیگرتین تحقیقات اورمولاناصاحب کےلئےحرف آخرکی حیثیت رکھنےوالی ذات شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی صاحب مرحوم کےبعض فتاوی کامحاسبہ اگلی قسط میں ملاحظہ فرمائیں

والسلام
*محمدحبیب الرحمٰن علوی منظری المـــداری*
ترجمان
آستانئہ عالیہ قدسیہ مداریہ
بلدالسادات دارالنورمکنپورشریف کانپور یوپی
۱۲/ اکتوبرسنـ ۲۰۱۹ ــہء

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.