Shagirdan mustafa aur maqame uwaisiyat

💡💡💡💡💡💡💡💡💡
شاگردان بارگاہ مصطفی اور مقام اویسیت

🔦🔦🔦🔦🔦🔦🔦🔦🔦

اسلام حقیقی کی تعلیم سے مراد ان علوم وقوانین کی تعلیم ہے جو علوم وقوانین اختلافات مذاہب سے نکال کر مقام تحقیق پر پہنچا دیتے ہیں
اور ان علوم نادرہ کے حصول کے بعد متعلم بارگاہ رسول بلا واسطہ احکام وفرامین حضور سید عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر عمل پیرا ہوتاہے اور اختلافات مذاہب سے نکل کر مشرب حق گامزن ہو جاتا ہے اگر چہ مذہب امام سے خروج علمائے ظاہریہ  کی رائے کے خلاف ہوتا ہے
اور حقیقت سے ناواقف علمائے ظواہر اسکے خلاف شریعت مطہرہ سے مخالفت کرنے کا الزام عائد کردیتے ہیں حالانکہ اسلام حقیقی کا تعلیم یافتہ فرد کامل محمد رسول اللہ کی اتباع وپیروی میں نقش قدم مصطفے پر اپنی آنکھیں بچھاتا ہے اور اتباع پیروی رسول سے بال برابر بھی شریعت مطہرہ کے دائرے سے تجاوز نہیں کرتا
چونکہ باطنی طور پر اسے صحبت اور تعلیم وتربیت نبوی حاصل ہوتی ہے اس پر :اصحابی کالنجوم بایھم
 اقتدیتم اھتدیتم :کا عکس جمیل ہوتا ہے اور براہ راست معلم کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے تحصیل علوم ومعارف کرتاہے
حضور مدار العالمین رضی اللہ عنہ بھی اسی مسلک اعظم کے سالک اور مشرب اعظم سے سیراب ہوئے تھے اسی بنا پر آپ سے اکثر علماء بحث و مباحثہ کرتے رہے اور عارفین زمانہ تک آپ سے جھگڑ گئے اور طرح طرح کے اعتراض کرتے رہے
جیسا کہ عاشق صادق اور دیوانہ مدار قاضی محمود گرگ دانشمنداں رقم فرماتے ہیں
بعض علماء ظاہریہ کا حضرت قطب المدار کے ساتھ سبب مخالفت یہ تھا کہ حضرت قطب المدار موصوف نے علوم دینیہ ومعارف یقینیہ خود روحانیت پاک رسالت پناہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم وحضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے اخذ فرمایا تھا اور کتب آسمانی حضرت امام مہدی عسکری رضی اللہ عنہ کی خدمت با برکت میں پڑھیں تھیں
اور اختلاف مذہب کو چھوڑ کر مشرب حق پر پہونچ گئے تھے اور بعض علماء ظاہر آپکے سامنے ابجد خواں تھے اور آپ قدم بقدم حضرت رسالت پناہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آئمہ اہل بیت نبویہ کے تھے اور اسی طریقے پر عمل فرماتے تھے
چونکہ آپکے بعض اطوار مجتہدین کی رائے وقیاس کے موافق نہ تھے اس واسطے بعض علماء ظاہریہ حقیقت کار ; واصل معاملہ سے ناواقف رہ کر علم اختلاف ونزاع بلند کرتے تھے  (ضرب ید اللہی صفحہ 153)
اس عبارت سے یہ بات منکشف ہو کر سامنے آتی ہے کہ حضور  سیدنا سید بدیع الدین مدار العالمین رضی اللہ عنہ شریعت کی حقیقت پر پہونچ گئے تھے اور آپ اسی پر عمل کرتے تھے  اسی وجہ آپ کے بعض طریقے ائمہ مجتہدین کے قیاس وآرا کے خلاف تھے اور علماء ظواہر کے بحث ومباحثہ اور جنگ وجدال کا سبب بنے ہوئے تھے
 علماء ظواہر شریعت ظاہرہ پر کار بند ہیں  اور اخص الخواص اولیاء کرام شریعت باطنہ کے
تفہیم عوام الناس کیلئے اس گھتی کی گرہ کشائ کرتے ہوئے حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سر ہندی فاروقی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں

شریعت کی ایک صورت ہے اورایک حقیقت
اسکی صورت وہ ہے جس کے بیان کے علمائے ظاہر کفیل وضامن ہیں اور اس کی حقیقت وہ ہے جس کے بیان کے ساتھ بلند گروہ صوفیاء ممتاز ہیں اس مقام میں عارف اپنے آپ کو بعض امور میں دائرہ شریعت سے باہر پاتا ہے لیکن چونکہ محفوظ اس لئے دقائق شریعت میں سے ایک دقیقہ بھی نہیں چھوڑتا ؛ وہ جماعت جو اس دولت عظمی سے مشرف ہوتی ہےاس کی تعداد بہت کم ہے
اور وہ صوفیاء کی ایک بڑی جماعت  اس مقام عالی کے سائے ہی تک پہونچی ہے (ضرب ید اللہی 152)

تحقیقاتی وتنقیدی جائزہ لینے سے سرکار قطب المدار مدار العالمین اسی دولت عظمی سے مشرف اور اسی مقام عالی قدر پر جلوہ افروز نظر آتے ہیں
اسی لیے محقق علی الاطلاق حضرت عبد الحق محدث دہلوی تحریر فرماتے ہیں
، بعض اوضاع ایشاں بر خلاف ظاہر شریعت بود ؛
یعنی آپکے بعض طریقے شریعت ظاہرہ کے خلاف تھے اور شریعت ظاہرہ سے بعض امور کے خلاف ہونے کا سبب وہی ہے کہ آپ کو حقیقت شریعت کا علم ہے جسکو مجدد الف ثانی قدس سرہ النورانی نے ذکر فرمایا ہے

 آپ مشرب حق پر فائز المرام تھے اور اپنے عاشقوں دیوانوں کو بھی اختلافات مذاہب ائمہ ظاہریہ سے نکال کر مذہب حق پہونچا دیا کرتے تھے اور آئینہ محمد عربی اس کو عطا فرما دیتے تھے
چنانچہ حضرت صدر الدین ثابت جونپوری کو مذہب امام اعظم ابو حنیفہ سے نکال کر مذہب الہی پر گامزن فرنایا
منقول ہے کہ جونپور سے رخصت ہوتے وقت آپ نے صدر الدین سے فرمایا کہ
 ،ترا از مذہب امام ابو حنیفہ کوفی در مذہب الہی آوردم وآئینہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بدست ترادادم؛
 یعنی اے صدر الدین میں نے تمہیں مذہب امام اعظم ابو حنیفہ سے نکال کر مذہب الہی میں لایا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا آئینہ تمہارے ہاتھ میں دے دیا (تذکرہ المتقین صفحہ 56)

غرض کہ محبوب کبریا مالک دوسرا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے فیضان قلزم سے سرکار مدار پاک کو نواز کر اسلام حقیقی تعلیم فریایا اور نسبت اویسی عطا فرماکر پیام توحید ورسالت اور فیض رسالت تقسیم کرنے کا حکم صادر فرمایا
حضرت سید بدیع الدیع احمد مدار العالمین رضی اللہ عنہ کی اویسیت بہ درجہ صحت متحقق ہے اور تمام علماء وصوفیاء زمانہ اس پر متفق ہیں اور آپ کے اویسی المشرب ہونے میں کسی کو شک و شبہ نہیں ہے یہ یہ دولت سرمدی و نعمت ابدی نسبت اویسی بہت ہی کم اولیاء کے حصہ میں آئ ؛
اسی کمیابی کے وجہ اس خانوادہ اعظم سے اکثر مشائخ و صوفیاء ہند ناآشنا تھے اور یہ مشرب عالی یعنی شرف نسبت اویسیہ کسی کو حاصل بھی نہ تھا ،
 ناشر نعت اویسیہ حضور مدار العالمین رضی اللہ عنہ نے سر زمین ہند کو  تشریف آوری سے نوازہ اور اس ملک کے گوشے گوشے میں مشرب اویسیہ کی نشر و اشاعت فرمائ ؛
چنانچہ غوث العالم مخدوم سمنان حضرت سید اشرف جہانگیر سمنانی رضی اللہ عنہ سے نقل ہے
کہ پیش از آوردن تشریف حضرت شاہ مدار در ہندوستان خانوادہ اویسیہ انتشار نیافتہ بود ، بعض مشائخ ازیں مقدمہ واقف نشدہ بودند ، چوں شاہ مدار آمد  ایں مشرب عالی قدر شائع ساختہ گشت ،
یعنی حضرت سید بدیع الدین احمد قطب المدار کے تشریف لانے سے پہلے ملک ہندوستان میں سلسلہ اویسیہ پھیلا نہیں تھا  بعض مشائخ اس مقدمہ سے واقف تھے  جب حضرت شاہ مدار تشریف لائے تو آپ نے اس مشرب عالی قدر خانوادہ اویسیہ کو عام وشائع کیا
حضور مدار پاک کو صحبت رسول میسر ہوئ تھی جب شیراز الہند جون پور میں سرکار قطب المدار نے اس عظیم سلسلہ اویسیہ کی نسبتوں سے خواص وعوام کو مستفیض فرمایا
جو بھی پیاسا اویسیت کی پیاس لے کر آتا وہ در  مدار پہ سر چشمہ اویسیہ سے سیراب ہو کر جاتا ، اور مدار پاک کی نسبت اویسیہ کا ذکر وچرچا کرتا ؛ یہاں تک کہ جونپور میں ہمہ گیر چرچا اور حد درجہ شہرہ ہوگیا کہ حضرت سید بدیع الدیع احمد مدار العالمین کو حسب ظاہر سید المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی صحبت میسر آئ ہے آپ کے حجرہ مقدسہ کے بند دروازے کو کوئی کھولتا نہیں،
آپ خورد و نوش سے بےنیاز ہیں تبدیل پیراہن کی بھی حاجت نہیں،  روئے انور سات نقابوں سے مستور وپوشیدہ ہے پھر بھی نور کی شعاعیں پھوٹتی رہتی ہیں؛  اگر ایک یا دو نقاب تجلی پیکر روئے اطہر سے اٹھ جاتے ہیں تو جمال وجلال الہی آپ کی آنکھوں میں نظر آتا ہے ،مخلوق خدا جس کی تاب طاقت نہ لا کر سجدہ ریزی کرتی ہے؛  اور بعض امور شریعت مطہرہ کے بظاہر خلاف لگتے ہیں؛ اور روز بروز کرامات باہرات کا ظہور ہوتا ہے؛ اور فیض وارشاد کا دریا بہتا ہے؛
ملک العلماء حضرت قاضی شہاب الدین دولت آبادی علماء جونپور کے سرتاج وسردار تھے جن کا لقب ہی ملک العلماء تھا علمی لیاقت ؛فنی صلاحیت میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے ؛مدار پاک کاعالمگیر شہرہ اور عوام وخواص کا بارگاہ مدار میں جذبہ عقیدت ووالہانہ عشق ومحبت دیکھ کر قاضی موصوف کے دل میں مدار پاک کیلئے بغض وکینہ ؛حسد وعناد پیدا ہوگیا وقتا فوقتا سلطان ابراہیم شرقی سے شکایتیں کیا کرتے تھے ،حضرت سلطان ابراہیم چونکہ آپ کے سچے معتقد تھے اس لئے قاضی صاحب کی شکایتوں کو نظر انداز کردیتے تھے
غرض کہ دل کی خلش نے زور کیا تو ملک العلماء نے دو سوال لکھ کر مدار پاک کی خدمت اقدس میں بھیجے ؛
اس خیال سے کہ اگر آپ کے قلم سے خلاف شرع کوئ بات نکل جائے گی تو شکایت کا سنہری موقع ملے گا
پہلا سوال تھا کہ آپ کو مخصوص ملاقات حضرت سید المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے میسر آئ ہے یہ امر نہایت عجیب و غریب معلوم ہوتا ہے اور کوئ شخص اس بند بند دروازے کھولتا نہیں ہے
کیونکر صحبت (نبی) میسر ہوئ ؟؟؟

اور دوسرا سوال تھا کہ العلماء ورثت الانبیاء سے مراد یہی علم ہے جو ہم نے حاصل کیا ہے یا کوئ اور علم ہے ؟؟
ان دونوں سوالوں کے جواب دے کر مطمئن فرمائیں

حافظ صحائف آسمانی عارف ربانی شاگرد مصطفی حضور مدار العالمین رضی اللہ عنہ نے عارفانہ طرز میں اسرار غیبیہ اور رموز بستہ کے دریچوں کو کھو ل دیا جو امور مخفیہ قاضی شہاب الدین دولت آبادی کے وہم وگمان میں بھی نہیں گزرے تھے ، مدار پاک نے صفحہ قرطاس پر اپنے نورانی ومقدس ہاتھوں سے جواب سپرد قلم فرمائے
ان میں سے پہلے سوال کا جواب یوں ہے

اے برادر
عوام کو حضرت الوہیت کے خواص واسرار کا جاننا بہت مشکل ہے آگاہ ہو کہ لوگ جو خانقاہ عدم کے گوشہ نشین اور ؛نخفت فیہ من روحی ؛ کے وسیع میدان کے شہسوار ہیں اور لوگوں کو ان کے اسرار وامور مخفیہ میں دخل نہیں؛ چونکہ حضرت الوہیت کے لم یز لی بارگاہ قدس میں قرب و اختصاص کی خلعت فاخرہ اور عطیہ عظمی سے سرفراز ہیں؛ اور اپنے حدوث وفنا سے بیگانہ ہیں؛ جبریل علیہ السلام کو اپنی رکاب داری میں اور نہ میکائیل علیہ السلام کو اپنی غاشیہ برداری میں قبول نہیں کرتے ہیں؛
ایک قدم میں دونوں عالم سے نکل جاتے ہیں اور صحرائے الوہیت وعالم لا مکانی میں جو ایک لا منتہائ ہے جولانگری کرتے ہیں؛ لیس عند اللہ صباح ولا مساء ؛کا مقام رکھتے ہیں
خداوند قدوس کی بارگاہ میں شب وروز بسر کرتے ہیں اور، یمحو اللہ ما یشاء ویثبت ؛پڑھ کر بے نام ونشان  جمیع مخلوقات سے بیگانہ رہتے ہیں؛ سبحانہ تعالی اس قوم کی عزت کو لوگوں سے محفوظ ومامون رکھتا ہے مگر جس کو چاہے ، لہ مقالید السموات والارض ؛اسی کے واسطے خاص ہے
یہ درویش بے خوش درہائے بستہ کھول رہا ہے اور مامور بامر اللہ ہے ،واللہ غالب علی امرہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون ؛ پیش آتا ہے اور اپنے آپ کو کسوت بشریت اور شکل انسانی میں اس وجہ دکھلاتا ہے کہ اس کا حکم ہے
 اور تم نے اسے برادر سنا ہوگا کہ حضرت سید حیدر الغالب علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم نے اپنی ولادت سے کم وبیش دو سو سال قبل ہی حق  سبحانہ تعالی کے حکم سے متمثل  ہو کر حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو شیر کے سامنے سے رہائ دلائ تھی; پس مقربان بارگاہ الوہیت کو اس وجود عنصری کے بعد ہر وقت میں تصرف رہتا ہے وہ کبھی تو لباس عنصری پہنتے ہیں اور وجود مثالی اختیار کرلیتے ہیں ان میں بعض حضرت موسی علیہ السلام کے مناجات کے وقت موجود تھے اور پو شیدہ باتیں خداوند عالم نے شب معراج میں قاب قوسین او ادنی کے مقام پر حضرت رسالت پناہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے فرمائ تھیں
اس وقت بھی وہ لوگ سن رہے تھے اور اصحاب صفہ درویشوں اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مصافحہ کرتے تھے اور حیات وممات میں انکے ساتھ اور اب بھی ہیں اوراب بھی ہیں اور وہ کل کو پا چکے ہیں جز کی کیا حقیقت :

سرکار مدار کے ملفوظات طیبات سے
عیاں ہے کہ بعض ایسے اولیاء ہیں جو مقرب بارگاہ ہیں جن کو بسا اوقات بارگار ایزدی میں باریابی اور حضوری حاصل ہے
 اور مقرب بارگاہ ایک قدم میں مسافت ارض وسماوی کو طے کرلیتے ہیں اور جو بظاہر ناممکن معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقتا وہ واصل حق ہیں
اگر مجھے یہ خصوصیت حاصل ہوئ کہ سید عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی محبت کی دولت عظمی اور آپ سے تعلیم وتربیت کی سعادت کبری ملی تو کونسی حیرت انگیز وتعجب خیز بات ہے  یعنی ارض گیتی پرجب ایسے مقربین خاص ہیں جنکی بارگاہ خدا میں رسائ ہے تو پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی صحبت سے سرفراز ہونا کیا ناممکن ہے ؟؟؟
خلاصہ کلام یہ کہ مدار پاک کو حسب ظاہر حضور تاجدار انبیاء صلیwww.qutbulmadar.org

Comments

Popular posts from this blog

Hazrat syed badiuddin Ahamad zinda shah madar

Qutbulmadar histotry