حضرات اہل دیانت وانصاف جانتے ہیں

حضراتِ اھلِ دیانت وانصاف!!!


تمام اھلِ علم جانتے ھیں کہ حاملِ مقامِ صمدیت واصلِ مقامِ محبوبیت تاجدارِ ولایت سیدنا وسندنا ومرشدنا سرکارسید بدیع الدین احمد زندہ شاہ مدار قدس سرہ اس ملک کے اول پیرانِ پیر ھیں


 آپ نے سن دوسوبیاسی ھجری میں اس ملک کی دھرتی کو اپنے قدومِ میمنت لزوم سے نوازا 


اور بے شمار مشرکین ملحدین و کفارکو حلقۂ اسلام میں داخل فرمایا


 اور دیکھتے ہی دیکھتے آپکا دائرۂ تبلیغ وارشاد پورے یورپ وایشیاء کو محیط ہوگیا


 آپکی حیاتِ ظاھری اور بعدِ حیاتِ ظاھری آپکے بیشمار خلفاءکرام کے ذریعہ بھی یہ سلسلۂ رشدوھدایت جاری رہا


 اور بحمد اللہ تعالیٰ آج بھی جاری وساری ھے 


ھزاروں صوفیاءعلماء محدثین آپکے سلسلۂ طریقت سے فیض حاصل کرتے رہے اور بلاتفریق ھر سلسلے میں سلسلۂ مداریہ کی اجازت وخلافت گردش کرتی رہی اور بزرگانِ دین ھردور میں اس مقدس سلسلے کی سندیں لکھتے رہے


 پورے ھندوستان میں جتنی بھی خانقاھیں ھیں آج بھی اپنے بزرگوں سے  پہونچے ہوئی اس نعمت عظیمہ کو باقی رکھے ہوئے ھیں 


مگر کس درجہ افسوس کی بات ھے کہ جو سلسلۂ طریقت سن دوسو بیاسی  ھجری سے لیکر سن بارسو ستانوے ھجری تک مکمل شان وبان کیساتھ جاری وساری رہا اور فیوضِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تقسیم کرتارہا وہی سلسلۂ طریقت تقریباً ایکہزار سال کے بعد سن بارہ سو ننانوے ھجری میں اچانک سوخت ومنقطع قرار دےدیاگیا اور اعلان کردیاگیا کہ اس سلسلۂ طریقت میں بیعت وخلافت بند ھے اس سلسلے میں بیعت ہونا گمرہی وجہالت ھے 


اس تحریکِ سوختن کے بانیوں نے اس بات کو قطعی فراموش کردیا کہ تیرِ سوختن سے کیسے کیسے ھمالہ قد بزرگ ترین ھستیوں اور ولیوں کے سینے چھلنی ہوجائینگے اور کن کن شاھکارانِ ولایت کی تکذیب و توھین وتجھیل وتحمیق ہوجائگی 


نیز یہ بھی نہ خیال رہا کہ کل ھماری اس حرکت کو اربابِ تحقیق ودیانت کس نظر سے دیکھینگے 


اور یہ بھی بھول بیٹھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کل کا محقق ھماری اس نقب زنی کا پردہ فاش کرتے ہوئے عدالتِ مسلمین میں لا ننگا کھڑاکردے 


انھوں نے یہ سوچا کہ


 معتبر ھے مِرافرمایاہوا 


مگر ایسا نہ ہوسکا کہ جیسی انکی سوچ تھی ہوا وہی کہ چوری پکڑلی گئی اور چور دروازہ بھی  دریافت کرلیا گیا اب اسکے بعد جگ ھنسائی سے کون بچاسکتاتھا 


اب جب صاحب پھنسے تو ایوانِ خاص میں شورغل لازمی بات تھی 


آج وہ کس منہ سے بزرگوں کی گستاخی کی دہائی دے رہے ھیں جنکے نزدیک ھزاروں اولیاءاللہ بزرگانِ دین معاذاللہ ایک گمرہی سے مربوط ومنسوب رہے 


اور بالتسلسل سلسلۂ مداریہ کی سندیں لکھتے چلے آئے کیا سلسلۂ مداریہ جوبقول شخصے ایک غیرجاری سلسلۂ طریقت تھا اسمیں اجازت وخلافت حاصل کرکے بیشمار اولیاءاللہ گمراہ وگمراہ گر جاھل وکاذب نہ ٹھہرے ؟؟؟؟؟


آج آئے ھیں دستار پارسائی باندھکر انصاف کی بھیک مانگنے اسوقت کہاں تھے جب ایک جعلی  موضوع من گڑھنت مجھول روایت کے ذریعہ طریقت وتصوف  کے عالی مرتبت سلسلہ 

سلسلۂ مداریہ کو سوخت کہہ کر ھزاروں اولیاء کرام کو معنوی طور پر معاذاللہ جاھل اور گمراہ کہاجارہاتھا


 اکابرینِ طریقت کی تکذیب وتحمیق کی جارہی تھی 


کہاں چلے گئے تھے اسوقت جب ساداتِ مکنپور کے نسب پاک پر حملہ کیاجارہاتھا؟


کہاں گم تھے اسوقت جب ساداتِ مکنپور شریف کو چرواہوں کی اولاد بتایاجارہاتھا؟


کہاں کھوئے تھے اس وقت جب ساداتِ مکنپور شریف کے مورثِ اعلیٰ سیدنا مدارِ پاک کو یہودی النسل لکھا جارہاتھا ؟



کہاں تھے پارسائے عصر اس گھڑی جب ساداتِ کچھوچھہ مقدسہ کو اہروں اوررافضیوں کی اولاد کہاجارہاتھا ؟


کہاں چلے گئے تھے اسوقت جب پیلی بھیت کے ٹھیکیدار آج سے دوسال پہلے منہ بھر ساداتِ مکنپور شریف کی گستاخی بر سرِ ممبر کررہے تھے؟


کہاں تھے اسوقت جب فیصلۂ شرعیہ لکھکر بزرگانِ چشتیہ قادریہ صابریہ نقشبندیہ مداریہ قلندریہ کو کافر کہاجارہاتھا؟


اسوقت نھیں آئے جب سرکار غوثِ پاک سرکارِ غریب نواز اور  شیخ عبد الحق محدث دھلوی علیھم الرحمہ کو فیصلۂ شرعیہ کی زد میں لاکر انکی شان میں دل دھلادینے والی گستاخی کی گئی 


اسوقت منہ میں دہی جمی ہوتی ھے  جب دوکوڑی کا مولوی سرکار مدارِ پاک کے سلسلے کوسوخت اور سلسلۂ مداریہ کے متعلقین کو کافر وگمراہ کہتانظرآتاھے 

اسوقت زبان نھیں کھلتی جب یہ لکھاجاتاھے کہ سلسلۂ مداریہ کے لوگ گمراہ وبے شرع اکثرھیں 



اتنا نہ بڑھا پاکئ داماں کی حکایت 

دامن کو ذرادیکھ ذرابندِ قباءدیکھ 


علامہ عباس ازھری  صاحب قبلہ اور علامہ اظھرعقیل صاحب قبلہ شوق کیساتھ آپکا من چاھا فیصلہ کریں یا حق ودیانت کے یہ خوگر اپنی موروثی حق پسندی ودیانت داری کو پیشِ نظر رکھکر فیصلۂ حق فرمائیں یہ ان علماء اھلسنت کا اپنا ذاتی معاملہ ھے مجھے اسمیں کوئی شکوہ نھیں ھے 

ھاں اتنی گزارش ھر منصف سے ھے کہ فیصلہ وہ کیجئے جو ھر عدالت میں قائم رہے

Comments

  1. This comment has been removed by the author.

    ReplyDelete
    Replies
    1. نفسِ مضمون کیا ہے؟
      ہمارے بزرگ حضرت سید دانیال جب عراق سے، حج و مدینہ طیبہ کی زیارات کے بعد ہندوستان تشریف لائے ۔ سنہ ۸۳۲ ھجری میں تو آپ سے ملاقات کا ذکر کرتے ہیں۔ میں اس مضمون کی تفصیل جاننا چاہونگا ۔ شکریہ۔

      Delete
  2. نفسِ مضمون کیا ہے؟
    ہمارے بزرگ حضرت سید دانیال جب عراق سے، حج و مدینہ طیبہ کی زیارات کے بعد ہندوستان تشریف لائے ۔ سنہ ۸۳۲ ھجری میں تو آپ سے ملاقات کا ذکر کرتے ہیں۔ میں اس مضمون کی تفصیل جاننا چاہونگا ۔ شکریہ۔

    ReplyDelete
  3. http://makansharief-rattarchattar.blogspot.com/2010/11/brief-history-of-makansharief.html

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

Hazrat syed badiuddin Ahamad zinda shah madar

Qutbulmadar histotry