Posts

Showing posts from May, 2015

وارث فیضان ارغونیت سرتاج مداریت سرگروہ سلسلہ مداریہ عمدۃ الخلف بقیۃ السلف حضرت علامہ ومولانا صوفی سید محمد مجیب الباقی جعفری مداری مد ظلہ العالی صدر سجادہ نشین موروثی تخت نشین خانقاہ مداریہ دارالنور مکنپور شریف ضلع کانپور یوپی الھند

Image
sadrul mashaikh syed mujeebul baqi jafari madari halabi shami makanpuri

Pro.akhtarul wasy ko nawazte huye sadar sajjada nasheen.پروفیسر اخترالواسع کو ٹرافی سے نوازتے ہوئے صدر سجادہ نشین سید مجیب الباقی میاں جعفری مداری

Image

Sadar sajjada nasheen khanqahe madariya sadrul mashaikh syed mujeebul baqi jafri madari makanpuri wali ahad khanqahe madariya syed zafar mujeeb jafri madari

Image
Image
waaris-e-Faizaane Arghooniyat Sar taaje madariyat Sadrul Mashaikh Syed mujeebul Baqi jafri madari Sadar sajjada nasheen khanqahe madarya maknp ur shareef distric kanpur (up)india

سلسلہ نقشبندیہ پر فیضان مداریت......

" سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ پر فیضان مداریت"
امام ربانی مجدد الف ثانی حضرت شیخ احمد سرہندی قدس اللہ سرہ القوی کہ ذات گرامی ہندوپاک کےمسلمانوں کے لیے محتاج تعارف نہیں ہے پورا عالم اسلام آپکے علم وفضل کا قائل ہے طریقت وتصوف میں آپ اعلی مدارج پر فائض تھے-آپکے مکتوبات آپکی عبقریت پر حجت ہیں-بزرگان دین کے جن سلاسل عالیات میں آپکواجازت وخلافت حاصل تھی  انمیں سلسلہ والیہ مداریہ بھی خصوصیت کے ساتھ مزکور ہے چناچہ (خزینۃ الاصفیا میں ہے کہ,,
حضرت شیخ مجدد اجازت وتلقین درسلاسل مثل ھم سلسلہ رفاعیہ و مداریہ کبرویہ وغیرہ وغیرہ علیحدہ علیحدہ ازشیخ عبدالاحد پدر بزرگوارخوداست حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ کوسلسلہ رفاعیہ ومداریہ کبرویہ وغیرہ میں تلقین فرمانے کی اجازت وخلافت آپکے والد بزرگوارشیخ عبدالاحد قدس سرہ سے ہے""(خزینۃ الاصفیا جلد اول ص609/611)
حضرت غلام علی نقشبندی مجددی دہلوی علیہ الرحمہ حضور مجدد الف ثانی  امام ربانی کے احوال بیعت اور حصول نسبت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ آپ,
اولا!بیعت ا.زوالد ماجدخود درخاندان عالی شان چشتیہ,نمودہ بودند واجازت وخلافت ایں خاندان یافتہ بودند بلکہ ا وا…

دلوں کی تیرگی.....مولانا سید ظفر مجیب مداری ولی عہد خانقاہ مداریہ

"دلوں کی تیرگی"
غیرمنقسم ہندوستان کے اولیائےعظام کی تاریخ پڑھنے والی شخصیات پر یہ بات مخفی نہیں ہے کہ ہندوستان کی سر زمیں پر باضابطہ طریقے سے مکمل تبلیغی دستور ونظام لیکر آنے والے اولیائے کرام ومشائخ ذوی الاحترام میں سب  سے پہلی ذات شاہکار قدرت منبع علم وحکمت قطب وحدت حضور پرنور سیدنا سید بدیع الدین احمد قطب المدار المعروف زندہ شاہمدار حلبی مکن پوری قدس سرہ العزیز کی ہے اسی اولیت کی بنیاد پر اصحاب تحقیق ونظر آپکو ہندوستان کا اول پیران پیر بھی کہتے ہیں_ہمارے اس دعوے کے بہت سارے دلائل موجود ہیں بر وقت کتاب (تاریخ سلاطین شرقیہ وصوفیائے جونپور)کی یہ عبارت نقل کرکے ہم اپنی گفتگوآگے بڑھارہے ہیں-ملاحظہ ہو"
حضورسیدنا سید بدیع الدین احمد قطب المدار قدس سرہ اس وقت ہندوستان تشریف لائے جب یہاں مسلمانوں کانام ونشان نہیں تھا-محمدبن قاسم علوی کی قائم کردہ حکومت زوال پزیر ہوچکی تھی''تاریخ سلاطین شرقیہ کی مزکورہ عبارت سے ہندوستان میں آپکی آمد کی اولیت کا مسئلہ بالکل صاف ہوگیا'لہذا جب یہ مسلم ہوچکا کہ سیدنا سید بدیع الدین احمد قطب المدار قدس سرہ ہندوستان کے اول مبلغ شریعت وط…

598واں،عرس مدارالعالمین انجام پزیر ہوا،دربار مداریہ سے جاری ہوا

عرس مدار پاک  انجام پزیر ہوا"
ارض ہندوپاک پر کئ صدیوں سے یہ رسم چلی آرہی ہے کہ اولیاء کرام وصوفیائے عظام کے وصال کی تاریخوں میں انکے مریدین و محبین انکے آستانوں پر جمع ہوکر عقیدت ومحبت کی سوغات پیش کرتے ہیں تجربہ اور مشاہدہ یہ ہے کہ اسلام وسنیت کی جو حرارت مریدین ومحبین کو فقط حاضر آستانہ ہوکر مل جاتی ہے وہ سیکڑوں مواعظ وتقاریر سنے کے بعد بھی نیہں حاصل ہوپاتی یہ خاص فیضان ہوتا ہے صاحب آستانہ کا جودکھتا نہیں مگر دلوں میں اتر جاتا ہے اولیاء کاملین کے آستانوں پر اہل عقیدت کے اس اجتماع کو عرس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ہندوپاک میں جن بزرگان دین  کا عرس پاک عظیم الشان پیمانے پر منایا جاتا ہے ان میں حامل مقام صمدیت سیدنا سرکار سید بدیع الدین احمد المعروف زندہ شاہمدار قدس سرہ کا نام نامی کافی شہرتوں کا حامل ہے حضور مدار پاک متحدہ ہندوستان کے وہ بزرگ ہیں جنکے احسانات سے عوام وخواص سبکی گردنیں زیربار ہیں انکےلیے  یہ کہنا ایک مکمل اور تلخ حقیقت ہے غیر منقسم ہندوپاک میں آپ کی ذات تبلیغ دین واسلام کے حوالے سے  نقطہ اول کی حیثیت رکھتی ہے,,آپ ان مخصوصین میں سے ایک ایسے مخصوص واخص ہیں جس کو الل…

جانشين قطب المدار حضرت سيد ابومحمدارغون رحمة الله عليه

نبذۃ عن حیاۃ للشیخ السیدابی محمد محمد ارغون/۳۸۷ھ/۱۹۸ھ
نسبہ:ھوالعالم الجلیل الداعیۃ الاسلامی،الولی الکامل السید ابومحمد محمد ارغون بن عبد اللہ بن کبیر الدین بن وحید الدین بن یسین بن محمد بن داؤد بن محمد بن ابراھیم  بن محمد بن اسمعیل بن محمد بن اسحق بن عبد الرزاق بن نظام الدین بن ابو سعید بن  محمد بن جعفر بن محمود الدین بن قدوۃ الدین  علی حلبی  بن بھا۶الدین  بن ظہیر الدین احمد بن اسمعیل الثانی بن محمد بن اسمعیل بن الامام جعفر الصادق بن الامام محمد باقر بن علی الاوسط زین العابدین بن الامام حسین   بن الامام علی المرتضی رضوان اللہ علیھم .
مولدہ ونشاتہ:   ولد الشیخ السید ابو محمد ارغون بن عبداللہ  الملقب بارغون فی قریۃ جنار من قری حلب احدی مدن الشام ،یوم الجمعۃ فی بدایۃ ربیع الاول سنۃ ثلاث وثمانین وسبع مائۃ ۳۸۷الھجریۃ ،ونشا ونشاۃ دینیہ فی بیت ثقافۃ عالیہ عرف بالعلم  والفضل ،وکانت تبدوفی وجھہ اثار النجابۃ والشرف مند نعومۃ اظفار ہ،وتتجلی ذکاوتہ وفطانتہ من کلامہ ،وحفظ القرآن الکریم فی حداثۃ سنۃ ،ونھل کثیرامن العلوم من منھل ابیہ ثم تتلمذ علی نخبۃ من العلما ۶ والفقھاء الذین ذاغ صیتھم بعلومھم وم…

مختصر سوانح حیات حضرت سید بدیع الدین احمد قطب المدار رضی اللہ تعالی عنہ

مختصرسوانح حیات
حضرت سیدبدیع الدین احمد قطب المداررضی اللہ تعالی عنہ.
اسم گرامی:سید بدیع الدین احمد ہے.کنیت ابوتراب ھے,بعض ممالک میں احمد زندان صوف کے نام سے مشہور ہیں,اہل تصوف اور اہل معرفت وحقیقت آپکوعبداللہ,قطب المدارفردالافرادکہتے ہیں"مدارعالم,مداردوجھاں"
مدارالعالمین,شمس الافلاک آپکے القابات مقدسہ ہیں برصغیر ہندوپاک میں زندہ شاہ مدار اور زندہ ولی کے نام سے زیادہ شہرت حاصل ہے"
ولادت باسعادت:آپکی ولادت باسعادت صبح صادق کے وقت پیر کے دن یکم شوال المکرم سنہ دوسوبیالس ھجری(242)مطابق(856)عیسوی میں ملک شام کے شہرحلب میں محلہ,جنار"میں ہوئ صاحب عالم سے سن ولادت کی تاریخ نکلتی ہے~والدماجد کا نام نامی سید قاضی قدوۃ الدین علی حلبی ہے اوروالدہ موصوفہ سیدہ فاطمہ ثانیہ عرف بی بی ہاجرہ سےمشہورہیں:
آپ حسنی حسینی سید ہیں:
حضرت سید بدیع الدین زندہ شاہ مدار رضی اللہ تعالی اپنا حسب ونسب ان الفاظمیں بیان فرماتے ہیں:اناحلبی بدیع الدین اسمی
      بامی وامی حسنی حسینی
     جدی مصطفے سلطان دارین
      محمداحمدومحمودکونین
(الکواب الدراریہ)
میں حلب کا رہنے والا ہوں میرانام بدیع الدین ہے…

نشاط لزت خواب گراں بدل ڈالو.......

(نشاط لزت خواب گراں بدل ڈالو)
تمام ذی شعور وذی فہم حضرات اس بات سے بخوبی واقف وآگاہ ہیں کہ اس دور پر فتن میں آئے دن دشمنان اسلام خرمن ایمان پر بجلیاں گراکر متاع اسلام وایمان کو خاکستر کرنے کیلیے بے تاب وبیاکل ہیں اسلام ومسلمانوں کو ختم کرنے کیلیے ہردن نئے اسلحے نئے انداز اور نئ نئ اسکیمیں تیار کی جارہی ہیں مشرکین کی نگاہوں میں لفظ اسلام ومسلم کے تئیں اسقدر نفرت وکدورت ہے کہ وہ فلمی دنیا کہ کلمہ گو ایکٹروں کی فلم دیکھنے کی اجازت اپنے مذھب کے لوگوں کو صرف اس لیے نہیں دے رہیے ہیں کہ انکے خیال کے مطابق انکی فلمیں دیکھکر اہل کفر اسلام کی جانب مائل ہوجاتے ہیں ابھی گزشتہ ہفتوں میں ایک بیان اخبارات میں دیکھنے کو ملا جسمیں ایک مشرکہ خاتون نے کہا تھا کہ ھمارے مذھب کے لوگ خان برادران کی فلمیں نہ دیکھیں مزکورہ باتوں سے راقم السطورکا  مقصود فلمی بینی کی حمایت واعانت نہیں ہے سب جانتے ہیں کہ یہ تمام فواحش عندالشرع مردود وملعون ہیں بتانا مقصودیہ ہیکہ اھل کفروشرک لفظ اسلام.ومسلم سے کس درجہ بغض وعناد کے شکار ہیں اب ایسے پر آشوب ماحول کہ جسمیں سولہ کروڑ ایمانداروں کو گھر واپس لانے کے نام پر ببے گھر کرن…

مقام مداریت مقام قطب المدار

"مقام مداریت"
قطب کا لغوی معنی:چکی کی کیل جس پر چکی گھومتی ہے مدار کار سردار قوم زمین کے محور کا کنارہ ایک ستارہ کا نام جس سے قبلہ کا تعین کرتے ہیں~قطب کا اصطلاحی معنی:قطب اسکو کہتے ہیں جو عالم میں منظور نظر حق تعالی ہو ہر زمانہ میں اور وہ بر.قلب اسرافیل علیہ السلام ہوتا ہے (الدرالمنظم ص ۰۵لطائف اشرفی )
اقطاب کی برکت سے عالم محفوظ ہے :حضرت شیخ اکبر فتوحات کے باب تین سو تراسی میں لکھتے ہیں کے قطب کے سبب سے اللہ تعالی محفوظ رکھتا ہے کل دائرہ وجود عالم کو فساد سے اور امامین کی وجہ سے عالم غیب و شہادت کو اور اوتاد کی وجہ سے جنوب وشمال کو اور مشرق ومغرب کو اور ابدال کی وجہ سے ساتوں ولایتوں کو محفوظ رکھتا ہے اور قطب الاقطاب سے ان سب کو کیونکہ وہ تو وہ شخص ہے جس پر سارے عالم کا امر دائر ہ ہے ~
قطب علوم اسرار کا عالم ہوتا ہے:
شیخ عبد الوہاب شعرانی الیواقیت والجواہر کے پینتالیسویں باب میں لکھتے ہیں کہ شیخ اکبر فتوحات کے باب دوسو پچپن میں لکھتے ہیں کہ قطب اپنی قطبیت میں قائم نہیں رہ سکتا تاوقتیکہ اسکو ان حروف مقطعات کے معانی معلوم نہ ہوں جو اوائل سور قرآنی میں ہوتے ہیں (بحوالہ الدرال…

قوت فکر وعمل.،اہل خانقاہ متوجہ ہوں

قوت فکروعمل"یہ ایک مسلم الثبوت حقیقت ہے کہ کسی بھی قوم وقبیلہ یاتحریک وجماعت کی حفاظت واشاعت اسی وقت تک ممکن ہے کہ جب تک ان سے متعلق افراد کی قوت  فکروعمل زندہ جاوید ہے اس بات سے کوئی بھی ہوشمند انسان اختلاف نہیں کرسکتا کہ بغیر فکروعمل کی توانائیوں کے کسی بھی تحریک وجماعت یا قوم وقبیلہ کے تحفظ وتقدس کا تصور محض خبط ہے تاریخ کے اوراق کے علاوہ ہردور کے دانشمندوں کے تجربات ومشاہدات اس بات پر شاہد ہیں کے جن اقوام وقبائل یاادیان ومذاھب کے افراد کی فکریات فرسودہ ہوئیں تو تھوڑے ہی دنوں میں ان سے متعلق افراد کے میعارووقار  وکردار سب کے سب نیست ونابود ہوگئے اور صفحہ تاریخ سے انہیں اس طرح مٹادیا گیا کہ جیسے وہ کبھی تھے ہی نہیں ~علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے اسی بات کو اپنے انداز میں یوں کہا ہے کہ قوت فکرو عمل پہلے فنا ہوتی ہے
پھر کسی قوم شوکت پر زوال آتا ہے
ہمارے اس دعوے کی بہت ساری دلیلوں میں سے ایک اہم دلیل ہماری خانقاہیں اور انکے سجادگان ومتولیان ہیں اب وہ چاہیں خانقاہ مداریہ مکن پور شریف ہو یا خانقاہ چشتیہ اجمیر شریف ,کچھوچھ شریف کی خانقاہ عالیہ ہو یا سیدنا.نظام الدین اولیاء دہلوی کی …

Qutbul Madar Sayyed Badiuddin Zinda Shah Madar (May God be pleased with him).

Image
Qutbul Madaris such a shining sun in vilayat that its right has illuminated the hearts, minds and souls of the Muslims in Asia and Europe. The rays of this sun have not only enlightened the Indian subcontinent but also the Khanqahs (Hospices) and Madarsas (Schools) of Europe and Africa. The expert historians and biographers are well aware about the personage and life of Qutbul Madar Sayyed Badiuddin Zinda Shah Madar (May God be pleased with him).
Name                  :   Badiuddin Ahmed Famous Titles   :   Shah Madar, Zinda Shah Madar,Shaikh Madar, Qutbul Madar,Madarul Alameen, Zinda Pir, Zinda Vali, Madar-e-Azam, Sar giroh-e-Ahle Tabaqat, Pir Zinda Madar etc.
Among the Sufis   : He is remembered as Zindan-e-Suf and Abdullah It is very difficult for a person to write about all the aspects and traits of a pious life of five hundred and ninety six years. It would certainly be a good fortune and happiness for me to include myself in the list of biographers by writing a brief biography of Sh…